3 گھنٹے تقریر کا ریکارڈ، قائم علی شاہ کی زبان پھسل گئی امجد صابری کو جنید جمشید کہا، ساحر لدھیانوی کا شعر غلط پڑھا، نادانستگی میں شکوہ کے شعر کو دل جلے کا کہہ دیا

3 گھنٹے تقریر کا ریکارڈ، قائم علی شاہ کی زبان پھسل گئی امجد صابری کو جنید جمشید کہا، ساحر لدھیانوی کا شعر غلط پڑھا، نادانستگی میں شکوہ کے شعر کو دل جلے کا کہہ دیا

کراچی (آئی این پی+ نوائے وقت رپورٹ) وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ نے سندھ اسمبلی میں تقریباً 3 گھنٹے خطاب کرکے نیا ریکارڈ قائم کردیا۔ 83 سال طویل عمری کے باوجود قائم علی شاہ نے ایوان میں کھڑ ے ہوکر 180منٹ تک لگاتار خطاب کیا، اس دوران وہ ایوان کو شعر و شاعری اور مختلف ضرب الامثال بھی سناتے رہے۔ پیپلز پارٹی کے کارکن ڈیسک بجا کرانکا حوصلہ بڑھاتے رہے۔ وزیراعلیٰ نے دوپہر ایک بجے خطاب شروع کیا اور سہ پہر 3:52 منٹ پر ختم کیا۔ ایوان میں اپنی نشست بھولنا اور زبان پھسلنے کے واقعات کوئی نئی بات نہیں اور اس بار قائم علی شاہ نے نہ صرف امجد فرید صابری کی جگہ جنید جمشید کا نام لے لیا بلکہ ساحر لدھیانوی کا شعر بھی غلط پڑھ گئے۔ اچانک سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی سے مخاطب ہو کر پوچھنے لگے سائیں آپ میری تقریر سے بور تو نہیں ہو رہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اپنی تقریر کے دوران ساحر لدھیانوی کا مشہور شعر پڑھنے کی کوشش کی لیکن اسے بھی ٹھیک طرح نہ پڑھ سکے اور خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا کی جگہ خون پھر خون ہے گرتا ہے تو تھم جاتا ہے پڑھ گئے۔ واضح رہے دو روز قبل اظہار الحسن نے اڑھائی گھنٹے خطاب کیا تھا۔ وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے علامہ اقبال کو نادانستگی میں دل جلا شاعر کہہ دیا۔ سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران انہوں نے جواب شکوہ کے ایک شعر کو کسی دل جلے کا شعر کہہ کر پڑھا۔