سندھ کی وزارت اعلیٰ پر پیپلز پارٹی میں اختلافات، سینئر رہنماوں کے اویس ٹپی پر تحفظات

سندھ کی وزارت اعلیٰ پر پیپلز پارٹی میں اختلافات، سینئر رہنماوں کے اویس ٹپی پر تحفظات

کراچی (سالک مجید) سندھ کی وزارت اعلیٰ کے امیدواروں پر پیپلز پارٹی کے اندر اختلافات شدت اختیار کر گئے اور اعلیٰ قیادت کو پارٹی کے اندر مختلف گروپوں کی شکل میں دباﺅ کا سامنا ہے۔ مختلف امیدواروں کے خلاف شکایات اور تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے سنیئر رہنماﺅں نے صدر زرداری کے منہ بولے بھائی اور پی ایس 88 ٹھٹھہ سے الیکشن جیتنے والے اویس مظفر ٹپی پر شدید تحفظات کا اظہار کر دیا اور کہا گیا ہے کہ اگر ان کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا تو سندھ میں پیپلز پارٹی پر بہت منفی اثرات رونما ہوں گے جس کا بھرپور فائدہ سیاسی مخالفین خصوصاً سندھی قوم پرست اٹھائیں گے۔ تحفظات رکھنے والوں میں خورشید شاہ‘ سید قائم علی شاہ‘ آغا سراج درانی پیش پیش ہیں جبکہ میر ہزار خان بجاران خود وزیر اعلیٰ کے امیدوار ہیں۔ مخدوم امین فہیم بھی وزارت اعلیٰ پر اپنے خاندان کا حق سمجھتے ہیں جبکہ منظور وسان نے قائم علی شاہ پر تحفظات کا اظہار کر دیا ہے، آغا سراج درانی اور خورشید شاہ نمایاں طور پر اویس مظفر ٹپی کے مخالف ہیں اور وہ فیصلہ صدر زرداری اور بلاول بھٹو پر چھوڑنے کی بات کر رہے ہیں۔ نثار کھوڑو بھی وزارت اعلیٰ کے امیدوار ہیں اور اس مرتبہ وہ سپیکر بننے کے موڈ میں نہیں۔ اویس مظفر ٹپی کو اعلیٰ قیادت نے سگنل دیا تھا جس کے بعد ہی انہوں نے ٹھٹھہ کی صوبائی اسمبلی پر الیکشن لڑا اور کامیابی حاصل کی۔ سابق صوبائی وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن‘ عمران لغاری‘ امداد پتافی اور دیگر نوجوان ایم پی اے اویس مظفر ٹپی کو وزیر اعلیٰ دیکھنا چاہتے ہیں اور ان کے لئے لابنگ کر رہے ہیں اویس ٹپی نے صدر زرداری کی موجودگی میں نواز شریف سے بھی ملاقات کی ہے اور ان کے قریبی ذرائع کے مطابق وہ وزیر اعلیٰ بننے کی ریہرسل کر رہے ہیں۔