کراچی: چیئرمین کی گمشدگی کیخلاف بلوچ طالبعلم کی بھوک ہڑتال ایک ماہ سے جاری

کراچی: چیئرمین کی گمشدگی کیخلاف بلوچ طالبعلم کی بھوک ہڑتال ایک ماہ سے جاری

کراچی (اے ایف پی) بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) کے آزاد گروپ کے چیئرمین زاہد بلوچ کی گمشدگی کے خلاف ایک بلوچ طالبعلم کی بھوک ہڑتال کو ایک ماہ گزر گیا ہے۔ کراچی پریس کلب کے سامنے بھوک سے نڈھال 23 سالہ لطیف جوہر نے اپنے رہنما کی بازیابی یا اپنی موت تک بھوک ہڑتال جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ بی ایس او کے چیئرمین زاہد بلوچ کو 18 مارچ کو مبینہ طور پر کوئٹہ سے اغوا کیا گیا تھا۔ بی ایس او نے ایک ماہ تک ان کو تلاش کیا مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا جس کے بعد تادم مرگ بھوک ہڑتال کا فیصلہ کیا گیا جس کیلئے لطیف جوہر نے خود کو پیش کیا۔ ہڑتال کے باعث جوہر کا وزن 21 کلو گرام کم ہو گیا ہے اور گفتگو کے دوران اس کو سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہے۔ معائنہ کرنے والے ڈاکٹر برما صبرانی نے کہا کہ وہ اس کی بحالی کے حوالے سے خاصے پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جوہر موت کی جانب بڑھ رہا ہے اور وہ مزید ایک ماہ گزار نہیں پائے گا۔ لطیف جوہر کو کیمپ میں گرمی اور مچھروں کے کاٹنے کا سامنا ہے اور اس کی حالت ہر گزرتے دن کے ساتھ بگڑ رہی ہے۔ جوہر نے بتایا کہ وہ دن میں 12 سے 15 گلاس پانی پیتا ہے اور ٹوائلٹ جانے کیلئے بھی جاتے ہوئے چند قدم چل کر تھک جاتا ہے۔ کتاب پڑھنا شروع کروں تو سر میں د رد کے باعث زیادہ دیر نہیں پڑھ سکتا۔ جوہر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس مقصد کیلئے اگر اسے موت بھی آجائے گی تو ان کی جگہ کوئی دوسرا بھوک ہڑتال شروع کر دیگا۔ ہم پرامن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں اور اسلحہ نہیں اٹھا سکتے لہٰذا دنیا کو اپنی جدوجہد سے آگاہ کرنے کیلئے ہم نے یہ راستہ اختیار کیا ہے۔