سندھ حکومت نے شاہد حیات کو ہٹا کر غیر ذمہ داری دکھائی‘ پرویز رشید : ہمارے معاملات میں مداخلت مت کریں : شرجیل میمن

سندھ حکومت نے شاہد حیات کو ہٹا کر غیر ذمہ داری دکھائی‘ پرویز رشید : ہمارے معاملات میں مداخلت مت کریں : شرجیل میمن

اسلام باد+ کراچی (نوائے وقت رپورٹ+ ایجنسیاں) وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات پرویز رشید  نے کہا ہے کہ امن و امان بنیادی طور پر صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے تاہم گزشتہ 11ماہ کے دوران وزیرِاعظم نے کم از کم 10 مرتبہ کراچی جاری آپریشن کا جائزہ لیا اور وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ حکومت کی مکمل حمایت کی۔ رینجرز صوبائی حکومت کی صوابدید پر رہی اور ڈی جی رینجرز سندھ خود آپریشن کی نگرانی کرتے رہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ شاہد حیات ایک اچھے پولیس افسر ہیں، ان کا انتخاب بھی حکومت سندھ نے کیا تھا اور تمام طبقات کی رائے تھی کہ پچھلے 11ماہ کے دوران انہوں نے قابل قدر کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور انہیں ابھی اس عہدے پر رہنا چاہئے تھا تاکہ یہ کام اپنے  منطقی انجام  کو پہنچ سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ نے ایک عدالتی حکم کو بنیاد بنا کر انہیں ہٹا دیا حالانکہ ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا۔ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (اے آئی جی) کراچی کی پوسٹ گریڈ 20 یا 21 میں فلوٹنگ پوسٹ بھی ہو سکتی ہے۔ سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ حکومت سندھ نے اس سلسلے میں غیر ذمہ داری اور غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کیا اور وزیراعلیٰ سندھ کو اس فیصلے کا دوبارہ جائزہ لینا چاہئے تاہم انہوں نے کراچی کے عوام کو یقین دلایا کہ وفاقی حکومت اور وزیراعظم اس آپریشن کی نگرانی جاری رکھیں گے۔ دریں اثناء سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے وفاقی وزیر اطلاعات کے بیان پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرویز رشید سندھ کے معاملات میں مداخلت مت کریں ہم سندھ کے معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دینگے۔ کراچی میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ شاہد حیات کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ہٹایا گیا۔ پرویز رشید کو صوبائی معاملات میں ڈکٹیشن دینے کا اختیار نہیں۔ وفاقی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ لاہور کا سی سی پی او ہمیں پسند نہیں۔ پرویز رشید بتائیں اسے کب ہٹائینگے۔ قبل ازیں ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل رضوان اختر نے وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ سے وزیراعلیٰ ہائوس میں ملاقات کی جس میں شاہد حیات سمیت دیگر افسروں کی نئی تقرریوں ، کراچی آپریشن پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ ٹارگٹڈ آپریشن افسروں کے تبادلوں سے متاثر نہیں ہونا چاہئے۔ افسروں کی تقرریاں میرٹ پر ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہاکہ آپریشن کے دوران شکایت کے خاتمے کیلئے کمیٹی جلد تشکیل دی جائے گی۔ ڈی جی رینجرز نے کراچی آپریشن کی رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش کی۔ ادھر کراچی پولیس کے نئے سربراہ ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبو نے کہا ہے کسی افسر کے جانے سے فرق نہیں پڑتا۔ کراچی آپریشن جاری رہے گا اور اس سلسلے میں دبائو برداشت نہیں کرونگا، جرائم پیشہ عناصر کیخلاف بلاتفریق کارروائی ہوئی، آپریشن پر سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کئے جائیں گے، کارروائی پر اعتراض کرنیوالے عدالتوں سے رجوع کریں۔