کراچی : صدر کی حمایت مےں جیو، جنگ کے باہر سندھ نیشنل پارٹی کا دھرنا

کراچی (کرائم رپورٹر+ نامہ نگار ریڈیو مانیٹرنگ) کراچی میں صدر آصف علی زرداری کی حمایت میں نجی ٹی وی چینل جیو اور روزنامہ جنگ کے دفتر کے باہر سندھ نیشنل پارٹی کے دھرنا کے شرکاء کے ساتھ پولیس کے تصادم مےں کئی کارکن زخمی ہوگئے۔ پولیس نے ہوائی فائرنگ اور شیلنگ کے بعد دس سے زائد کارکنوں کو گرفتار کرلیا، سندھ نیشنل پارٹی کے چیئرمین امیر بھنبھرو نے کارکنوں کے ساتھ آئی آئی چند ریگر روڈ پر جیو اور جنگ کے دفتر کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا۔ قبل ازیں امیر بھنبھرو کی قیادت میںکراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں صدر آصف علی زردرای کو ٹارگٹ کئے جانے کو سندھ کے خلاف سازش قرار دیا گیا بعد ازاںمظاہرے میںشریک افراد ریلی کی شکل میں جیو کے دفتر پہنچے جہاں انہیں روکنے پر ریلی کے شرکاء اور پولیس کے درمیان تصادم ہوا ہاتھا پائی کے دوران سندھ نیشنل پارٹی کے کارکنوں کے علاوہ ایک ڈی ایس پی بھی زخمی ہوا۔ اس دوران بعض افراد نے ایک پولیس کانسٹیبل سے سرکاری رائفل چھیننے کی کوشش کی جس پر پولیس نے ریلی کے شرکاء پر زبردست لاٹھی چارج او رشیلنگ کی اور ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔ ہنگامہ آرائی کا سلسلہ کئی گھنٹے تک جاری رہا اور اس دوران آئی آئی چند ریگر روڈ پر ٹریفک کی آمد و رفت معطل رہی۔ احتجاجی دھرنا مےں ٹی وی اینکروںکی برطرفی، سندھ سے تعلق رکھنے والے صدر کے خلاف پروپیگنڈہ بند کرنے اور سندھ نیشنل پارٹی کی ریلی کے خلاف مقدمہ کرنے والے پولیس افسروں کے خلاف فوری ایکشن کا مطالبہ کیا۔ جیو اور جنگ کے دفاتر پر اتوارکو رات گئے تک دھرنا اوراحتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ نجی چینل کے مطابق اس سے قبل انہوں نے سکیورٹی گارڈز کے ساتھ غیر شائستہ حرکات کیں اور مارپیٹ کی گئی نجی ٹی وی کے مطابق اس سارے واقعہ کو پولیس دور سے کھڑی دیکھتی رہی چینل کے مطابق یہ سب کچھ حکومتی ایما پر کیا جا رہا ہے پولیس کو بھی احکامات دے دیئے گئے ہےں کہ مظاہرین پر سختی نہ کی جائے۔ چینل کے مطابق صحافی اس ساری صورتحال سے سخت خوفزدہ ہےں خواتین اور دیگر کارکن نہ دفتروں سے باہر نکل سکتے ہےں اور نہ ہی گھر جاسکتے ہےں مختلف شخصیات نے اس صورتحال کی مذمت کی ہے، اقبال حیدر نے سارے عمل کو غیر قانونی فعل اور آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا۔ مسلم لیگ ن کے پرویز رشید نے کہا کہ ایسی صورتحال کی ماضی مےں کوئی مثال نہیں ملتی جو کچھ ہو رہا ہے وہ بالکل غلط ہے۔ دھرنا دینے والوں اور احتجاج کرنے والوں کے آگے انتظامیہ اور پولیس بے بس نظر آرہی ہے، نجی ٹی وی نے بتایا کہ دھرنا دینے والوں کی تعداد مےں اضافہ ہو رہا ہے۔دریں اثناءسندھ حکومت کے نمائندوں نے سندھ نیشنل پارٹی کے رہنماﺅں اور مظاہرین سے بات چیت کر کے جنگ اور جیو ٹی وی کے دفاتر کے باہر کارکنوں کا دھرنا ختم کرا دیا۔ مظاہرین نے تحریری مطالبات جنگ اور جیو انتظامیہ کو پیش کئے، جیو انتظامیہ نے کہا کہ احتجاج کرنے کا حق سب کو ہوتا ہے لیکن دفتر کا گھیراﺅ کرنا یا باہر دھرنا دینا درست عمل نہیں۔