جوڈیشل کمشن کا سندھ، بلوچستان کے لاپتہ افراد کے مقدمات کا جائزہ، بیانات ریکارڈ

کراچی (نیٹ نیوز+ خبر ایجنسیاں) لاپتہ افراد سے متعلق قائم جوڈیشل کمشن نے کراچی میں تین روز تک سندھ اور بلوچستان کے لاپتہ افراد کے مقدمات کا جائزہ لیا اور بیانات ریکارڈ کئے۔ بلوچستان کے مزید کیسز کا جائزہ لینے کے لئے کمشن یکم سے تین جون تک کوئٹہ میں اجلاس کرے گا۔ جسٹس ریٹائرڈ کمال منصور عالم، جسٹس ریٹائرڈ فضل الرحمان اور جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ اقبال پر مشتمل کمشن نے لاپتہ افراد کے کیسز کا جائزہ لیا۔ ڈائریکٹر آپریشن نیشنل کرائسس مینجمنٹ سیل فرید خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سندھ کے 19مقدمات اور بلوچستان کے تقریباً 112مقدمات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پولیس اور دیگر اداروں کے ساتھ اہل خانہ کے بیانات بھی ریکارڈ کئے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے لاپتہ نوجوان سلیم شہزاد کے اہل خانہ نے بھی کمشن سے مل کر اپنی شکایات درج کرائیں جس پر اے ایس ایف، امیگریشن اور سول ایوی ایشن حکام کو طلب کرکے تفصیلات لی گئی ہیں۔ کمشن بننے سے اب تک سندھ کے تین افراد کا پتہ چل سکا ہے۔ ایم کیو ایم کے 28لاپتہ افراد کا سپریم کورٹ کے حکم پر معاملہ الگ چل رہا ہے اور سی سی پی او کراچی کو ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کمشن 28اگست تک اپنی رپورٹ اور سفارشات سپریم کورٹ کو پیش کرے گا۔