کراچی میں شدید گرمی کے باعث ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ

کراچی میں شدید گرمی کے باعث ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ

سندھ رینجرز نے کراچی میں شدید گرمی سے ہونے والی ہلاکتوں کے باعث دس مختلف مقامات پر ہیٹ اسٹروک مراکز قائم کیے ہیں۔ان سنٹرز میں مجموعی طور پر دو سو سے زائد متاثرہ افراد کو لایا جا چکا ہے ، ان میں تیس افراد کا علاج جاری ہے ۔ مریضوں کے اہل خانہ نے رینجرز کی جانب سے فراہم کردہ سہولتوں پر اطمینان کا اظہار کیاکراچی کے شہریوں کا کہنا ہے کہ سندھ رینجرز نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ مصیبت کی گھڑی میں شہر قائد کے عوام کے ساتھ ہے اور ان کی خدمت کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑے گی

کراچی میں گرمی سے اموات کی گونج سندھ اسمبلی تک پہنچ گئی

سپیکرآغاسراج درانی کی صدارت میں سندھ اسمبلی کااجلاس پونےدو گھنٹےکی تاخیر سےشروع ہوا،اجلاس کےایجنڈے میں بجٹ پراختتامی تقاریر،وصولیوں اخراجات اور مطالبات زرپربحث تھی،لیکن متفقہ فیصلہ کیاگیا کہ شہر میں شدید گرمی اور پانی وبجلی کی عدم دستیابی کےباعث بحث موخر کردی جائے،اجلاس سےخطاب میں وزیراعلیٰ سندھ کاکہناتھاکہ گرمی سے ہونےوالی اموات پرلواحقین کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں،موجودہ صورت حال میں کہیں نہ کہیں غفلت ہوئی ہے،جس کا پتہ لگائیں گے،انہوں نےکہاکہ آئین کے تحت بجلی کا محکمہ وفاق کے پاس ہے،کے الیکٹرک کےمالک کوایک باروزیراعلی ہاؤس بلایا تھا لیکن وہ نہیں آئے،سائیں کاکہناتھا،کہ کے الیکٹرک سے دوبارہ بات کریں گے،اور ضرورت پڑی تو سخت کارروائی بھی کی جائےگی،انہوں نے کہاکہ خوامخواہ محاذ آرائی میں نہیں پڑنا چاہتا،اموات پرسیاست نہیں چمکانی،وزیراعلیٰ سندھ کاکہناتھااب تو حال یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں بھی بجلی پراحتجاج ہورہا ہے،وزیراعلٰی کی تقریرکے بعد اجلاس کل تک ملتوی کردیا گی