سندھ اسمبلی میں اپوزیشن کا شور شرابہ، بجٹ مسترد کر دیا

کراچی (این این آئی) سندھ اسمبلی میں بجٹ پربحث کے دوران  سندھ کے وزیربلدیات اور اطلاعات ونشریات شرجیل میمن کی تقریر پر حزب اختلاف کے ارکان نے احتجاج کیا ہے، اپوزیشن نے سندھ کے بجٹ کو مسترد کردیا جبکہ حکومتی ارکان نے وفاق سے فنڈز نہ ملنے کے باوجود بجٹ کو عوام دوست قرار دیا ہے۔ پیرکو سپیکر آغا سراج درانی کی صدارت میں چھٹے روز بھی سندھ اسمبلی میں بجٹ پر بحث جاری رہی، صوبائی وزیر شرجیل میمن کی تقریرکے دوران حزب اختلاف کے ارکان نے باربارمداخلت کی اورجملے بازی کی جبکہ بعض ارکان نے شیم شیم کے نعرے لگائے اورعام انتخابات میں ٹھپے اوردھاندلی کے الزامات عائد کئے۔ شرجیل میمن نے کہاکہ انتخابات میں ٹھپے کون لگاتا ہے، سب کو پتہ ہے، عوام نے دس جماعتی اتحاد کا وہ حشرکیا، میں ہوتا تو سیاست چھوڑدیتا۔ انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی کا بجٹ برا اورحکومت کی کارگردگی اچھی نہیں تو اپوزیشن کو انتخابات میں عوام ووٹ کیوں نہیں دیتے، پیپلز پارٹی کو کیوں دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنہوں نے الیکشن میں ٹھپے لگائے عوام نے انہیں جوتے ماریں۔ شرجیل میمن نے کہا کہ اگر پیپلزپارٹی کی حکومت کی کارکردگی بہتر نہ ہوتی اور وہ عوام کے لیے بہتر بجٹ پیش نہ کرتی تو سندھ کے عوام اسے بار بار کیوں ووٹ دیتے۔  انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی سب سے بڑی یہ تنقید کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام ( اے ڈی پی ) کا بجٹ کم کردیا گیا ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وفاق سے پیسے کم ملے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی اپوزیشن ارکان ایسے ہیں ، جو تبادلوں اور تقرریوں کے لیے درخواستیں دیتے ہیں ۔ کچھ اپوزیشن ارکان کہتے ہیں کہ انہیں پیپلز پارٹی میں شامل کیا جائے ۔ اپوزیشن کی ایک خاتون رکن نے الزام لگایا کہ نوکریاں بکتی ہیں لیکن گذشتہ دور میں ان کے شوہر کو گریڈ ۔ 16 میں نوکری ملی ۔ کیا انہوں نے نوکری خریدی تھی ؟ اپوزیشن ارکان نے نعرے لگائے کہ ’’ نام لو ، نام لو ‘‘ اس سے ایوان میں شور شرابہ ہوا ۔ اگر سعودی عرب میں حج کے دوران لوگ انتقال کر جاتے ہیں تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ سعودی حکومت ناکام ہو گئی۔ سیہون میں حکومت سندھ نے مکمل انتظامات کیے ۔ 1200 پولیس اہلکار وہاں تعینات تھے۔ اپوزیشن ارکان نے یہ الزام عائد کیا کہ سندھ حکومت ان کے حلقوںکو نظرانداز کر رہی ہے۔ مسلم لیگ (فنکشنل) کے رکن جام مدد علی نے سندھ حکومت کو شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی قبر کا واسطہ دے کر کہا کہ وہ گورننس کو بہتر بنائے۔ پیپلز پارٹی کے رکن ساجد جوکھیو نے کہا کہ علامہ طاہر القادری اور اس طرح کے دیگر لوگ ملک میں جمہوریت نہیں چاہتے۔ ان لوگوں کی سازشوں کو ناکام بنادیا جائے۔ جمہوری عمل جاری رہنا چاہئے۔  مسلم لیگ (ن) کے شاہ حسین شیرازی نے کہا کہ ہمیں دھمکیاں دی جارہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ اسمبلی سے باہر نکلو۔ پھر دیکھو کیا ہو تا ہے۔ اس پر اسپیکر نے ان سے کہاکہ اگر آپ کو کوئی شکایات ہیں تو آپ عدالت سے رجوع کریں۔ ایم کیو ایم کے رکن دیوان چند چاولہ نے کہا کہ سندھ کے غریب لوگوں کی حالت نہیں بدلی۔ غریب ہاریوں کو سبسڈی پر ٹریکٹرز نہیں ملے ہیں۔ یہ ٹریکٹرز بھی بااثر لوگ لے گئے ہیں۔ اقلیتی برادریوں کے قبرستانوں پر قبضے کیے جا رہے ہیں۔ درثں اثناء سابق وزیر اعلیٰ سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم نے طویل عرصے بعد پیر کو سندھ اسمبلی کے اجلاس میں تیسری مرتبہ شرکت کی۔ وہ تھوڑی دیر اجلاس میں موجود رہے۔ انہوں نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ میں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اجلاس میں شرکت نہیں کر سکا۔ آئندہ شرکت کیلئے آتا رہوں گا۔