بینظیر کے قاتلوں تک پہنچنے والی 300 سے زائد شہادتیں فضا میں اڑ کر غائب

کراچی (رپورٹ :یوسف خان) بے نظیر بھٹو شہید کی تیسری برسی پر تین اہم سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ (1) بے نظیر بھٹو کو انکی لینڈ کروزر کے مسافروں نے گاڑی کی نشست سے اٹھنے کیوں دیا (2) بے نظیر بھٹو کا پوسٹ مارٹم کس کے حکم پر نہیں کرایا گیا (3) جائے حادثہ ڈیڑھ گھنٹے کے اندر کس کی ہدایت پر فائر بریگیڈ کے پائپ سے دھو کر سینکڑوں شہادتیں ضائع کردی گئیں۔ بے نظیر بھٹو کے اس دوپٹہ کا سراغ نہیں ملا جو دھماکہ کے وقت اڑ گیا تھا۔ وفاقی وزیر تجارت مخدوم امین فہیم‘ ناہید خان‘ خالد شہنشاہ اور ایک ملازم بے نظیر بھٹو کی لینڈ کروزر کے مسافروں میں شامل تھے۔ بے نظیر بھٹو کے ایک طرف امین فہیم دوسری طرف ناہید خان بیٹھی تھیں۔ امین فہیم سے پوچھا گیا کہ محترمہ کو کیوں نشست سے اٹھنے دیا گیا جس کے نتیجہ میں وہ قاتلوں کے سامنے ایکسپوز ہوگئیں امین فہیم نے کہا کیا کوئی محترمہ کو روک سکتا تھا ۔ وہ اپنی مرضی کی مالک تھیں۔ محترمہ اپنی مرضی سے کھڑی ہوگئی تھیں انکو اتنی تیزی سے روکنا ممکن نہیں تھا جس تیزی سے وہ کھڑی ہوئی تھیں۔ لینڈ کروزر کی چھت (ہچ Hatch) کس کے حکم پر کھولی گئی۔ ناہید خان اور صفدر عباسی کے مطابق محترمہ کے سکیورٹی انچارج خالد شہنشاہ اس کے ذمہ دار تھے جن کو بعد میں قتل کردیا گیا۔ مخدوم امین فہیم کے مطابق جب محترمہ گریں تو ناہید خان نے انہیں سنبھالا۔ میرے خیال میں وہ اس وقت اس دنیا میں نہیں تھیں۔ ہم سے بچھڑ چکی تھیں۔ مخدوم امین فہیم‘ ناہید خان اور صفدر عباسی کے مطابق تینوں میں سے کوئی یہ فیصلہ کرنے کا مجاز نہیں تھا کہ پوسٹ مارٹم نہ ہو۔ صفدر عباسی نے کہا کہ یہ فیصلہ آصف علی زرداری نے کیا جو دبئی سے راولپنڈی پہنچ چکے تھے۔ امین فہیم نے کہا فیملی کا ممبر پوسٹ مارٹم کا فیصلہ کرسکتا ہے۔ کوئی اور فیصلہ نہ کرسکتا ہے نہ اس کا مجاز ہے۔ ناہید خان نے ان لمحات کو یاد کرتے ہوئے کہا محترمہ میری گود میں گری تھیں کبھی تھک جاتیں تو میری گود میں سر رکھ لیتی تھیں۔ میں یہی سمجھی کہ محترمہ آرام کرنا چاہتی ہیں جب میں نے انکے بالوں میں انگلی پھیری تو میرے ہاتھ خون میں ہوگئے۔ انکے کان سر اور گردن سے خون بہہ رہا تھا۔27 دسمبر 2007 کے سانحہ کی شہادتیں مٹانے کی ذمہ داری سے مشرف دور کے حکمران صاف بچ گئے پرویز مشرف کو بری الذمہ قرار دے کر دو سرکاری افسروں کو ذمہ دار ٹھہرا دیا گیا۔ اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمشن کی رپورٹ میں کہا گیا کہ کسی اعلیٰ اتھارٹی کے حکم پر جائے حادثہ طاقتور پائپ سے دھو دی گئی۔ صدر آصف علی زرداری نے بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد ایک انٹرویو میں سوال کیا کہ محترمہ کے ساتھ لینڈ کروزر میں بیٹھے ساتھی مسافروں نے انہیں اٹھنے سے کیوں نہ منع کیا۔ اس سانحہ کے بعد سے ناہید خان اور صفدر عباسی کو سائیڈ لائن کردیا گیا۔ امین فہیم آصف زرداری کو چیلنج کرنے کے ارادہ سے باہر آئے تو انہیں وزیر تجارت بنا دیا گیا اور وہ خاموش ہوگئے‘ جس کے نتیجہ میں تین سو سے زائد شہادتیں فضا میں اڑکر غائب ہوگئیں‘ جن کی موجودگی میں قاتلوں تک پہنچنے میں مدد مل سکتی تھی۔