کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنے کیلئے حکومتی سطح پر عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا

لندن (تجزیہ/ خالد ایچ لودھی) کراچی کی صورت حال جو کہ ہر لمحہ انتہائی خطرناک صورت اختیار کرتی ہوئی نظر آ رہی ہے سول وار کی شکل میں آنے والے دن خوفناک منظر نامہ پیش کر رہے ہیں ہر روز لاشیں گر رہی ہیں! بوریوں میں بند لاشیں روزکا معمول بن چکا ہے پورا شہر خوف و ہراس کے عالم میں مبتلا ہے حکومتی سطح پر وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتیں یہ دیکھتے ہوئے بھی کہ کراچی میں قتل و غارت گر، لوٹ مار، بھتہ خوری اور جائیدادون پر زبردستی مختلف مافیاز کے قبضے لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنا چکے ہیں لوگ کراچی چھوڑ کر اپنی جمع پونجی سمیت کر لندن، دوبئی اور دیگر ممالک کا رُخ کرنا شروع ہو چکے ہیں لیکن اجلاس پر اجلاس! ایوان صدر میں! ایوان وزیر اعلیٰ میں اور پھر گورنر ہاﺅس میں، نت نئی حکمت عملی، فوج بلوائی جائے! فوج کراچی کے مسئلہ کا حل نہیں وغیرہ وغیرہ یہ وہ بیانات ہیں جو کہ خون میں نہلائے ہوئے کراچی میں بیٹھ کر وزیر اعظم، صدر اور قومی سلامتی کے محافظ میڈیا کو جاری کرتے ہیں لیکن کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنے کیلئے ابھی تک نہ تو حکومتی سطح پر کوئی عملی اقدام ہی ہوا ہے اور نہ ہی آج تک یہ کھوج لگایا گیا ہے کہ آخر کراچی میں بے تحاشہ اسلحہ اور جدید نوعیت کے ٹاگٹ کلنگ کے طریقے! یہ سب کچھ کون فراہم کرتا ہے اور کون تربیت دیتا ہے۔ پورے کا پورا کراچی تمام پاکستانیوں کا ہے نہ کہ کسی ایک گروہ کا جماعت کا! حقائق یقینا بہت تلخ ہیں آخر کراچی میں کن طاقتوں کے ایجنڈے پر عمل کرکے تینوں پارٹیاں پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، اور اے این پی، اپنی اپنی سیاسی، مالی اور کراچی پر قبضہ برقرار رکھنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں جس سے پورا کراچی خون خرابے کی نذر ہو رہا ہے۔ لندن میں مقیم سیاستدان اور پھر وہ رہنما جن کے اثاثے اور رہائشی فلیٹس برطانیہ میں ہیں ان سے کراچی کا امن بحال کروانے کی امید کی جا سکتی ہے؟ سندھ میں کلیدی عہدوں پر تبدیلیاں لا کر بھی کراچی میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ سقوط ڈھاکہ سے سیاستدانوں نے کوئی سبق نہیں سیکھا بھارتی اثر و رسوخ اور بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کا عمل دخل سابقہ مشرقی پاکستان میں یکدم نہیں ہوا تھا یہ سارا کھیل آہستہ آہستہ خفیہ طور پر جاری تھا جو کھیل ایسا کراچی میں کھیلا جا رہا ہے اس کے ڈانڈے نہ صرف بھارت بلکہ اب تو بعض مغربی طاقتوں سے بھی ملتے ہیں بے شک مافیاز اپنی جگہ قائم ہیں لندن میں مقیم کراچی اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سیاسی گروہوں کو بھلا کس بنا پر بھر پور سیکورٹی فراہمی کی جاتی ہے؟ ان گروہوں کو بے پناہ سرمایہ کون فراہم کرتا ہے؟ ان تمام امور پر غور کیا جانا چاہیے۔اور افواج پاکستان سے بھرپور تعاون کیا جانا چاہیے اور کراچی کی رونقیں، روشنیاں اور امن و سکون بحال کروانا ہے تو اس کا واحد حل اب سرجیکل آپریشن ہی ہے جو کہ صرف اور صرف افواج پاکستان ہی کو کرنا چاہیے جسے آئین پاکستان کا پورا پورا تحفظ بھی حاصل ہو۔