ملک کو تعلیم یافتہ لوگوں نے زیادہ نقصان پہنچایا: ایدھی

کراچی (وقت نیوز + ریڈیو نیوز) ممتاز سماجی کارکن مولانا عبدالستار ایدھی نے کہا ہے کہ اگر تعلیم انسان کو انسان نہیں بناتی تو بے کار ہے‘ تعلیم یافتہ لوگوں نے ہی ملک‘ قوم اور انسانوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا‘ تعلیم سے تبدیلی نہیں آئی بلکہ لالچ‘ مفاد پرستی‘ ٹیکس چوری‘ زکوٰة چوری بڑھی۔ وقت نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت مسائل کے حل میں سنجیدہ ہے لیکن فنڈز نہیں جبکہ بیرونی دنیا بھی پیسے دینے کو تیار نہیں‘ حالات کو ٹھیک کرنے کے لئے خونیں انقلاب لانا پڑے گا اور نچلے طبقے سے ہی کوئی آئے گا اگر کوئی نہ آیا تو اللہ تعالیٰ تو لائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف کے احتساب سے پہلے مطالبہ کرنے والے سب اپنا احتساب کریں کیونکہ کوئی ملک سے مخلص نہیں‘ مشرف نے کئی اچھے کام بھی کئے‘ اسے با کوئی پاکستان آنے نہیں دے گا۔ مولانا ایدھی نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کارکردگی دکھائیں گے ورنہ جائیں گے کیونکہ سیاستدانوں نے حالات سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ عوام چوری‘ فضول خرچی چھوڑ کر سادگی اپنائیں۔ انہوں نے اپنے حوالے سے بتایا کہ میں پاکستان بننے سے پہلے سے پہلے کپڑے کی دکان پر 5 روپے ماہوار پر کام کرتا تھا‘ میں نے وصیت کر رکھی ہے کہ مجھے انہی کپڑوں میں دفن کیا جائے جو پہن رکھے ہوں‘ 40 سال پہلے کی قبر تیار کر رکھی ہے‘ 40 سال سے شوگر کا مریض ہوں، پرہیز ہی علاج ہے جو کر رہا ہوں‘ عمر 90 سال کے قریب ہے۔ ایک سوال پر مولانا ایدھی نے کہا کہ ان پر انسان اعضا بیچنے کے الزامات میں کوئی حقیقت نہیں صرف میڈیکل کے طلبا و طالبات کو تحقیق کے لئے بلامعاوضہ اعضا دئیے، سرمایہ دار الزام لگاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانیت کی خدمت‘ کسی کا دل راضی کرنا اور میت کو غسل دینا ہی میرا حج ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب میں بلوچستان گیا تو کئی لوگوں نے ڈرایا کہ مار دیں گے لیکن وہاں پر ڈاکو¶ں نے میری حفاظت کی اور 30 لاکھ روپے کے عطیات اکٹھے ہوئے جو صوبے میں فلاحی کاموں پر خرچ کئے جائیں گے۔