کراچی میں مزید 3 قتل‘ رینجرز کیخلاف احتجاج‘ ٹارگٹ کلنگ کا ماسٹر مائنڈ گرفتار

کراچی (بی بی سی اردو+ ریڈیو مانیٹرنگ+ نیوز ایجنسیاں) ٹارگٹ کلنگ میں مزید 3افراد مارے گئے، متاثرہ علاقوں میں کشیدگی برقرار ہے جبکہ شیعہ تنظیموں نے فائرنگ سے 2افراد کی ہلاکت پر رینجرز کیخلاف احتجاج کیا اور پولیس کے اختیارات واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری طرف وزیر داخلہ نے رینجرز اور پولیس کو ہدایت کی ہے امن و امان کو یقینی بنائیں، مہاجر قومی موومنٹ کے وائس چیئرمین شہباز غوری نے رحمن ملک کے ٹارگٹ کلنگ کی حقیقت کو تسلیم نہ کرنے پر احتجاج کیا ہے۔ علاوہ ازیں پولیس افسروں سمیت 25اہم شخصیات کے قتل اور ٹارگٹ کلنگ کا ماسٹر مائنڈ اشتیاق عرف سلمان پکڑا گیا، قبضہ سے اسلحہ برآمد ہوا ہے۔ شیعہ ایکشن کمیٹی اور مجلس وحدت مسلمین نے حالیہ ہلاکتوں کیخلاف جمعہ کو احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ ایس ایس پی چودھری اسلم نے بتایا ملزم ڈی ایس پی نواز رانجھا ریٹائرڈ ڈی ایس پی رحیم بنگش انسپکٹر ناصر الحسن، انسپکٹر ساجد سمیت متعدد افراد کو قتل کر چکا ہے۔ ملزم سپیشل برانچ پولیس کا برطرف اہلکار تھا۔ ملزم سے اہم شخصیات کی ہٹ لسٹ بھی ملی ہے۔ نامعلوم مقام پر منتقل کرکے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ گلبہار میں ہنگامہ آرائی کے دوران مشتعل افراد نے گاڑیوں کے شیشے توڑ دئیے اور املاک کو نقصان پہنچایا، انچولی، ملیر، جعفر طیار اور دیگر علاقوں میں دکانیں اور مارکیٹیں بند ہو گئیں اور خوف و ہراس پھیل گیا، متاثرہ علاقوں میں پولیس اور رینجرز کے گشت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ چورنگی کے قریب رینجرز کی جوابی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے ناصر علی کی تدفین کے بعد نامعلوم مشتعل افراد نے ہوائی فائرنگ شروع کر دی جبکہ رضویہ چورنگی پر ہی مشتعل افراد نے متعدد پتھاروں اور ٹائر کو نذر آتش کر دیا ہے، رینجرز نے گولیمار پر احتجاج کرنے والوں کا منتشر کرنے کے لئے ہوائی فائرنگ کر دی جس کے بعد مزید مشتعل ہو گئے اور پتھراﺅ شروع کر دیا۔پارلیمنٹ ہاﺅس کے سامنے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رحمن ملک نے کہا ہے کہ ملک کو غیرمستحکم کرنے کی مہم جاری ہے، حالات جلد بہتر ہو جائیں گے۔ کراچی میں مختلف فرقوں کو آپس میں لڑانے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم جو بھی ضروری ہوا، حکومت کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں پولیس اور رینجرز کی نفری ضرورت سے کم ہیں۔ رینجرز نے اپنے دفاع میں گولی چلائی تھی، واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ علمائے کرام فرقہ واریت پھیلانے کی کوئی کوشش کامیاب نہ ہونے دیں، ملک کو غیرمستحکم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وزیر داخلہ نے ایک سوال پر کہاکہ کیا عافیہ صدیقی قانونی طور پر پاکستان سے گئی تھی۔ عافیہ صدیقی کا مسئلہ چند یوم میں حل ہو جائیگا۔ امریکہ عالمی معاہدوں کے تحت ہمارے حوالے کر دیگا، وہ سزا پاکستان میں کاٹیں گی۔ڈاکٹر عمران فاروق کی تجہیز و تکفین کیلئے ایم کیو ایم جس طرح کے سکیورٹی انتظامات کہیں گی کئے جائیں گے، دہشت گرد ملک کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ بلوچستان کے بعض رہنما افغانستان میں بیٹھ کر ملک میں عسکریت پسندی کراتے ہیں اس بارے میں تمام ثبوت کرزئی کو فراہم کر دئیے ہیں، ہم افغانستان سے آکر بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ کرنے والوں کو معاف نہیں کریں گے۔ عمر چیمہ پر تشدد کرنے والوں کے بارے میں کچھ شواہد ملے ہیں، اس واقعہ کی ایک جوڈیشل انکوائری بھی کرائی جا رہی ہے، بعض عناصر وفاق اور صوبوں کو لڑانا چاہتے ہیں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جیسے کیس سامنے لاکر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں جن کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ نیوکراچی میں کامران پر فائرنگ کی گئی، کورنگی میں ایک شخص کو پھندا لگاکر مار ڈالا، مزید 2گاڑیاں جلا دی گئیں، گلبہار اور گولیمار میں خواتین اور مردوں نے دھرنا دیا۔