سندھ اسمبلی کا اجلاس، تھر میں حکومتی نااہلی سے 100 سے زائد بچے مرے: اپوزیشن

سندھ اسمبلی کا اجلاس، تھر میں حکومتی نااہلی سے 100 سے زائد بچے مرے: اپوزیشن

کراچی (وقائع نگار) سندھ اسمبلی کے اجلاس میں جمعہ کو فاتحہ خوانی کے دوران اپوزیشن کے ارکان نے تھر کی صورت حال پر سخت تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے نہ صرف 100 سے زائد بچے ہلاک ہوئے بلکہ اس صحرائی علاقے میں خوفناک حالات پیدا ہوئے ۔ متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم ) کے ارکان نے اپنے لاپتہ کارکنوں کی نعشیں ملنے اور دیگر کارکنوں کا سراغ نہ ملنے پر تشویش کا اظہار اور احتجاج کیا۔ متعدد ارکان نے جسقم کے مرحوم رہنما بشیر قریشی کے بھائی مقصود قریشی اور دیگر دو کارکنوں کے بہیمانہ قتل کی بھی مذمت کی۔ سندھ اسمبلی کا اجلاس سپیکر آغا سراج درانی کی صدارت میں شروع ہوا۔ اور الطاف حسین انڑ کے انتقال کے سوگ میں پیر کی صبح 10 بجے تک ملتوی کردیا گیا ۔ قبل ازیں الطاف حسین انڑ ، تھر میں قحط سالی اور بیماری سے جاں بحق ہونے والوں ، گمشدگی کے دوران تشدد سے جاں بحق ہونے والے  ایم کیو ایم کے کارکنوں، کراچی کے علاقے لیاری میں بم دھماکوں میں جاں بحق ہونے والے بچوں، خواتین اور دیگر افراد اور ملک بھر میں دہشت گردی کا شکار ہونیوالے افراد کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی ۔ اپوزیشن لیڈر سید فیصل علی سبزواری نے کہا کہ گذشتہ تین چار مہینوں سے ایم کیو ایم کے 50 سے زائد کارکن لاپتہ ہیں ۔ ان میں سے 5 کارکنوں کی لاشیں ملی تھیں جنہیں لاوارث قرار دیکر دفنا دیا گیا۔ حکومت اور قانون نافذ کرنیوالے ادارے اس صورتحال کا نوٹس لیں اور ان معاملات کی انکوائری کرائی جائے ۔ ایم کیو ایم کے ارکان بلقیس مختیار، ڈاکٹر ارشد ووہرا اور دیگر نے بھی لاپتہ کارکنوں کی لاشیں ملنے پر احتجاج کیا۔ متعدد اپوزیشن ارکان نے تھر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت کو ایسے اقدامات کرنے چاہئیں کہ آئندہ ایسی صورتحال پیدا نہ ہو۔ سپیکر نے سیکرٹری اسمبلی کو ہدایت کی کہ اسمبلی اجلاس کے دوران آنے والے افسروں کی حاضری لگائی جائے اور گذشتہ اجلاس میں جو افسر آئے تھے ان کے بارے میں رپورٹ پیش کی جائے۔ وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر سکندر میندھرو نے سپیکر کو یقین دہانی کرائی کہ قواعد و ضوابط پر عملدرآمد ہوگا۔