کراچی میں ایک روز کاروبار کی بندش سے 12 ارب روپے کا نقصان

کراچی (ایجنسیاں) ایک اندازے کے مطابق کراچی میں کاروبار کی ایک دن کی بندش سے ملکی معیشت کو 12 ارب روپے تک کا نقصان پہنچا ہے۔ تاجر برادری کے خیال میں حکومت کو بھی محصولات کی مد میں کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے قائم مقام صدر طلعت محمود نے بتایا کہ موجودہ مہنگائی کے دوران میں اگر ایک دن کراچی بند ہوتا ہے تو اس سے نہ صرف تاجر بلکہ روزانہ اجرت والے لاکھوں مزدور بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اس وقت مہنگائی کا طوفان ہے اس میں اگر ایک دن کراچی بند ہوتا ہے تو اس سے نہ صرف تاجر اور صنعتکار بلکہ روزانہ اجرت والے لاکھوں مزدور شدید متاثر ہوتے ہیں۔ کراچی ٹریڈرز ایکشن کمیٹی کے چیئرمین صدیق میمن نے کہا ہے کہ سانحہ شیرشاہ کباڑی مارکیٹ میں دہشت گردی‘ تاجروں کی ہلاکت اور دکانوں پر حملوں کے خلاف بطور احتجاج تمام مرکزی مارکیٹس طارق روڈ‘ صدر‘ کلفٹن‘ بہادر آباد‘ جوڑیا بازار‘ کپڑا مارکیٹ‘ میریٹ روڈ‘ جامع کلاتھ‘ بوہرہ پیر‘ اردو بازار‘ پاکستان چوک‘ حیدری‘ گلشن اقبال‘ گلستان جوہر‘ لیاقت آباد‘ لانڈھی ملیر‘ شاہ فیصل کالونی سمیت شہر کی 580 مارکیٹس‘ 227 بازار‘ 84 شاپنگ سنٹر اور 96 سپر مارکیٹس بند رہیں‘ بندرگاہوں سے مارکیٹوں تک مال کی ترسیل کا کام بند رہا جبکہ مارکیٹوں میں روزانہ اجرت پر کام کرنے والے ایک لاکھ 75 ہزار مزدور و ورکرز بےروزگار رہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کی جانب سے کاروباری مراکز کو سکیورٹی فراہم نہ کی گئی تو معاشی سرگرمیاں مزید جاری رکھنا ممکن نہیں ہو گا۔ 27 دسمبر 2007ءمحترہ بےنظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پہلی دفعہ کراچی میں مسلسل 5 دن سے مارکیٹوں اور کاروباری مراکز میں تمام سرگرمیاں معطل رہیں۔ شہر کی معیشت تباہی کے دھانے پر پہنچ چکی ہے۔ کراچی کے حالات کے باعث شہر کا مجموعی کاروبار 80 فیصد کمی کے بعد صرف 20 فیصد کی نچلی ترین سطح پر آ چکا ہے جس سے کاروباری اخراجات نکالنا بھی مشکل ہو گیا ہے‘ شہر کی اکثر مارکیٹوں‘ بازار اور شاپنگ سنٹرز میں کرائے پر حاصل کردہ 30 فیصد دکانیں بدترین کاروباری بحران کے باعث بند ہو چکی ہیں۔ عیدالاضحیٰ سیزن کے بعد شہر کی 20 فیصد دکانیں بند ہونے کا اندیشہ ہے۔ حکومت نے اگر شہر کی معیشت کو مکمل تباہی سے بچانے اور کاروباری عمل جاری رکھنے کے لئے ہنگامی اور انتظامی اقدامات نہ کئے تو شہر کا معاشی ہب اپنی شناخت کھو بیٹھے گا۔