سیاست دانوں حکمرانوں نے قاانین کومفادات کھیل بنا لیا

کراچی( سالک مجید) پاکستان کے سرکردہ سیاست دان اور حکمران عدالتی اکامات پر عمل درآمد کرانے کے بجائے عدالتی احکامات کا کھلی آنکھوں سے مذا ق اڑا دیکھ رہے ہیں لیکن عدلتوں کا احترام کرانے میں اپنا آئینی اور قانونی فرض ادا کرنے سے قاصر ہیں اور اس روئیے کے وجہ سے ملک میں یہ تاثر پختہ ہوتا جارہا ہے کہ پاکستان میں طاقتور کے لئے قانون الگ ہے او ر کمزور کے لئے الگ ہے۔ انسدادہشت گردی کی عدالت اسلام آباد نے عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے وارنٹ جاری کر رکھے ہیں اور ان کو گرفتارکرکے عدالت میں پیش کرنے کے احکامات کے باوجود قانون کے کسی محافظ میں اتنی ہمت نہیں ہوسکی کہ وہ مطلوب ملزمان کو گرفتار کرکے عدالت میںپیش کرے۔ مذکورہ مفرور ملزمان جو پاکستان کے سرکردہ سیاست دانوںمیں شامل ہیں وہ خود بھی عدالت میںپیش ہونے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھا رہے ہیں ۔ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار کو شادی کی تقریب سے واپسی پر پو لیس اپنے ہمراہ لے جاتی ہے دو گھنٹے حراست میں رکھا جاتا ہے ان کو بھی عدالت سے وارنٹ جاری ہوچکے ہیں لیکن پولیس بالاخر ان کو تھانے سے گھر جانے دیتی ہے جبکہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر فاروق ستار کے وارنٹ جاری ہیں۔ ان کو ضمانت کرالینی چاہئے ۔ پیپلزپارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائی کورٹ نے منظو ر کر رکھی تھی اس کے باوجود پاکستان واپسی پر ان کو نیب کیس میں مطلوب ہونے کی وجہ سے حراست میں لیا گیا اور بعد ازاں رہا کردیا گیا۔ شرجیل میمن نے خود سوال اٹھادیا کہ نیب نے ہائی پروفائل کیسز میں وزیراعظم نواز شریف اور اسحاق ڈار کے نام بھی لئے تھے ان کو کیوں نہیںپکڑا گیا ۔ کسی میں ہمت ہے کہ ادھر نگاہ بھی اٹھائے ۔ان واقعات سے یہ بات واضح ہے کہ جن سیاست دانوں حکمرانوں کے خلاف کیسز ہیں عدالتیں گرفتار کرنے کے لئے کہتی ہیں ان کوپکڑا نہیں جاتا پولیس اور قاقبل ترین قانون نافذ کرنے والے اداروں کو وہ مطلوب ملزمان کہیں ملتے ہی نہیں حالانکہ روزانہ ٹاک شوز اور عوامی تقریبات میں مطلوب ملزمان موجود ہوتے ہیں۔ دوسری طرف جن کو عدالت گرفتار کرنے سے روکتی ہے ان کو ادارے پکڑ لیتے لہٰذا عوام سوال اٹھانے میں حق بجانب ہیں کہ ملک میںطاقتور کے لئے قانون الگ ہے اور کمزور کے لئے قانون الگ ہے اگر ایسا نہیں تو عمران خان ، ڈاکٹر طاہر القادری کو کوئی ہاتھ لگا کر دکھائے اورنیب وزیراعظم ہاﺅس یا وزیر اعلیٰ ہاﺅس کا رخ کر کے دکھائے۔
عدلیہ کا احترام