کراچی بدامنی کیس : سندھ میں مستقل آئی جی کی تقرری کا حکم رینجرز کے اختیارات کی رپورٹ طلب

کراچی بدامنی کیس : سندھ میں مستقل آئی جی کی تقرری کا حکم رینجرز کے اختیارات کی رپورٹ طلب

کراچی (ایجنسیاں+ نوائے وقت رپورٹ) سپریم کورٹ نے کراچی میں امن و امان کے لئے رینجرز کے اختیارات سے متعلق تین روز میں تحریری رپورٹ طلب کرلی۔ سندھ میں امن و امان کی صورت حال خراب ہے اور اب تک قائم مقام آئی جی کام کررہے ہیں۔ صوبے میں فوری طور مستقل آئی جی کا تقرر کیا جائے۔ تین رکنی بنچ نے کراچی بدامنی کیس کی سماعت کی۔ قائم مقام آئی جی سندھ اقبال محمود سے استفسار کیا کہ آپ ابھی تک قائم مقام آئی جی ہی ہیں؟ جس پر اقبال محمود نے کہا کہ جی ہاں۔ سپریم کورٹ نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے حکم دیا کہ سندھ میں مستقل آئی جی سندھ تعینات کیا جائے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ حکومت سندھ کی سنجیدگی کا یہ حال ہے کہ صوبے میں اب تک مستقل آئی جی موجود نہیں۔ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ فوری طور پر آئی جی سندھ تعینات کر کے عدالت میں رپورٹ پیش کریں۔ 24 گھنٹے میں نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کیا جائے۔ سندھ میں امن و امان کی صورت حال خراب ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اخبارات میں ڈی جی رینجرز کا بیان آیا ہے کہ قیام امن کے حوالے سے رینجرز کے پاس اختیارات نہیں۔ جس پر رینجرز کے لا آفیسر میجر اشفاق نے عدالت کو بتایا کہ انسداد دہشتگردی قوانین میں ترمیم کے ذریعے رینجرز کو تفتیش کا اختیار نہیں دیا گیا، رینجرز صرف ملزمان کو گرفتار کرتی ہے اور پولیس کے حوالے کرتی ہے، 5  تھانوں اور تفتیش کی نگرانی کے اختیار کا کہا گیا لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، رینجرز اہلکار ہائی پروفائل کیسز میں ملوث ملزمان کو پکڑتے ہیں لیکن گزشتہ 6  ماہ کے دوران گرفتار کئے گئے 517  ملزمان کو ماتحت عدالتوں سے ضمانتیں مل گئیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ڈی جی رینجرزکے بیان سے لگتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں ہم آہنگی کا فقدان ہے۔ بڑے بڑے دہشت گردوں کو ٹی ٹی پسٹل کے مقدمے میں گرفتار دکھایا جا رہا ہے۔ جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ رینجرز کہتی ہے کہ وہ قتل کا ملزم پکڑتے ہیں اور پولیس اسلحے کا مقدمہ بناتی ہے، عدالت میں موجود لوگوں سے پوچھیں کہ کیا وہ خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ دوران سماعت قائم مقام آئی جی سندھ اقبال محمود سے عدالت نے استفسار کیا کہ کراچی آپریشن کے بعد شہر میں امن و امان کی صورت حال کیسی ہے ؟ اقبال محمود نے عدالت کو بتایا کہ مجموعی طور پر کراچی کی صورت حال بہت بہتر ہے۔ فروری 2014میں 20جبکہ مارچ میں صرف 2پولیس اہلکار شہید ہوئے ہیں ۔جس پر جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیئے کہ ہم جانتے ہیں کہ پولیس اہلکار اپنی جانیں پیش کررہے ہیں لیکن آپ ہی کی رپورٹ کے مطابق اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری میں اضافہ ہوا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ کراچی کے معاملے میں سیاسی عزم کی کمزوری نظر آ رہی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس اختیار نہیں ہیں تو مسائل کیسے حل ہوں گے۔ عدالت نے رینجرز کے مسائل جلد حل کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے زمینوں پر قبضے کی رپورٹ پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا۔