سندھ حکومت کی درخواست مسترد‘ بلدیاتی حلقہ بندیاں اور انتخابات الیکشن کمشن کی ذمہ داری ہے : سپریم کورٹ

سندھ حکومت کی درخواست مسترد‘ بلدیاتی حلقہ بندیاں اور انتخابات الیکشن کمشن کی ذمہ داری ہے : سپریم کورٹ

کراچی (آن لائن) سپریم کورٹ نے سندھ میں بلدیاتی حلقہ بندیوں سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف صوبائی حکومت کی درخواست خارج کردی اور قرار دیا  ہے کہ حلقہ بندی اور الیکشن کرانا الیکشن کمشن کی ذمہ داری ہے۔ کراچی رجسٹری میں سندھ میں بلدیاتی حلقہ بندیوں سے متعلق متفرق درخواستوں کی سماعت کے بعد چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے فاضل بینچ نے مختصر فیصلہ سنادیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حلقہ بندی اور الیکشن کرانا الیکشن کمشن کی ذمہ داری ہے،  حلقہ بندیوں کے بارے میں قانون سازی کی جائے، الیکشن کمشن حلقہ بندیاں 5 ماہ میں مکمل کرے اور 15 نومبر تک انتخابات کا انعقاد کیا جائے۔سماعت کے بعد متحدہ قومی موومنٹ کے وکیل سینیٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر کہا ہے کہ سندھ میں حلقہ بندیاں قانون کے مطابق نہیں ہوئیں۔ ایم کیو ایم نے اپنی درخواست میں سپریم کورٹ سے اپیل کی تھی کہ حلقہ بندیوں کا اختیار ایک غیر جانبدار ادارے کو ہونا چاہیئے جو آئین پاکستان کے مطابق الیکشن کمشن ہی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے کی جانے والی حالیہ حلقہ بندیاں ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے کرائی گئی تھیں، ان کو یہ بھی اختیار تھا کہ وہ کسی بھی علاقے کو شہری اور کسی بھی علاقے کو دیہی قرار دے دیں، اس سلسلے میں سندھ ہائی کورٹ پہلے ہی اپنے فیصلوں میں حلقہ بندیوں کا اختیار صوبائی حکومت کو دینے کا فیصلہ دے چکی تھی اس لئے ہمیں نظام کو غیر جانبدار بنانے کے لئے سپریم کورٹ میں درخواست دینا پڑی۔ سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی اس بات کو تسلیم کیا کہ قومی صوبائی اور بلدیاتی حلقہ بندیوں کا اختیار الیکشن کمشن کو ہونا چاہیئے۔ یاد رہے کہ ایم کیو ایم، جماعت اسلامی اور دیگر سیاسی جماعتوں کی درخواست پر ہائیکورٹ نے حلقہ بندیاں کالعدم قرار دی تھیں۔ فیصلہ سننے کے بعد  ایم کیو ایم کے وکیل  فروغ نسیم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی علاقے کو اربن یا رورل بنا دیا جاتا تھا عدالت نے ان تمام اقدامات کو کالعدم قرار دے دیا  ہے  ،ان کا کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنر چونکہ ماتحت ہوتا ہے اس لئے وہ جتنابھی غیر جانبدار ہو اس پرحکومت کا دبائو ہوتا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ اب جو قانون بن گیا ہے یہ غیرجانبدار ہے ان کا کہنا تھا کہ یہ بات ہم اس لئے نہیں کر رہے ہیںکہ ہم حزب اختلاف کی جماعت ہیں ۔ہمارے دلائل کو عدالت نے تسلیم کیا ان کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ کے پہلے سے 2سے3فیصلے موجود تھے جن میں کہا گیا تھا الیکشن کمشن حلقہ بندیاں نہیں کرے گا اور دوران دلائل یہ بات ہائیکورٹ میں چھیڑی نہیں جاسکتی تھی لیکن سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی بات تسلیم کی کہ الیکشن کمشن کو حلقہ بندیاں کرانی چاہیئں،چاہے وہ مقامی حکومتوں کے الیکشن کیوں نہ ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ سب کو معلوم ہے کہ قومی و صوبائی حلقہ بندیوں کا اختیار الیکشن کمشن کو حاصل ہے  اور یہی موقف پہلے حکومت کا بھی تھا۔