”عارف جتوئی نے پی رکھی ہے“ ایاز سومرو کے ریمارکس پر سندھ اسمبلی میں ہنگامہ

کراچی(وقائع نگار+ اےجنسیاں) سندھ اسمبلی نے سانحہ کوئٹہ کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔ اجلاس میں ترقیاتی فنڈز کے اجرا پر اپوزیشن اور حکومتی ارکان نے زبردست ہنگامہ اور شور شرابہ کیا۔ ارکان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن رکن عارف مصطفی جتوئی نے ایم پی اے ترقیاتی فنڈ کا معاملہ اٹھاتے ہوئے وزیراعلٰی سندھ قائم علی شاہ کے متعلق سخت ریمارکس دیے جس کا صوبائی وزراءنے بھی سخت الفاظ میں جواب دیا عارف مصطفی جتوئی کا کہنا تھا کہ وزیراعلی سندھ نے ارکان اسمبلی کو دوکروڑ روپے ترقیاتی فنڈز دینے کا جو وعدہ کیا مالی سال ختم ہونے والا ہے مگر انہوں نے اپنے وعدے پر عمل نہیں کیا، وزیراعلیٰ کو شرم کرنی چاہئے۔ صوبائی وزیرقانون ایازسومرو نے عارف مصطفی جتوئی کا بلڈ ٹیسٹ کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا لگتا ہے کہ انہوں نے پی رکھی ہے۔ جس کے خلاف مسلم لیگ فنکشنل اور نیشنل پیپلزپارٹی سمیت اپوزیشن ارکان نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہوکر احتجاج کیا۔ جام مدد علی کا کہنا تھا کہ تمام ارکان کا بلڈ ٹیسٹ کرایا جائے پتہ چل جائے گا کہ کس کو شوگر ہے اور کس نے پی رکھی ہے، ایک موقع پر صوبائی وزیر قانون ایازسومرو نے مسلم لیگ فنکشنل کی دوخواتین ارکان کو بینجمن سسٹرکا خطاب دیا ان کا کہنا تھا کہ خاتون رکن نصرت سحرعباسی کا ابھی یہ حال ہے اگر انہیں اپوزیشن لیڈر بنا دیتے تو کیا حال ہوتا۔ جس پر فنکشنل لیگ کے ارکان نے احتجاج اور شدید ہنگامہ آرائی کی دیگر اپوزیشن ارکان بھی ان کے ساتھ مل گئے۔ ایوان نے سانحہ کوئٹہ پر مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔ قرارداد ایم کیو ایم کے رکن فیصل سبزواری نے پیش کی جس میں کہا گیا کہ ایوان ہزارہ ٹاون کوئٹہ بم دھماکے کی شدید مذمت کرتا ہے۔ سکیورٹی ادارے اس واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کرےں اور ملزمان کو قرار واقعی سزا دلائی جائے۔ فیصل سبزواری نے کہا ایک ایسا گروہ ہے جو اپنے سوا کسی کو برداشت نہیں کرتا پاکستانی قوم کو بیمار ذہنوں کے خلاف متحد ہونا پڑے گا۔ سیدہ شہلا رضا نے کہا فوج کو اگر داخلی معاملات میں الجھا دیا گیا تو سرحدوں پر کون دیکھ بھال کرے گا۔ نصرت سحر عباسی نے کہا حکومت لوگوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہو چکی۔ بعدازاں اسمبلی کا اجلاس آج صبح تک ملتوی کر دیا گیا، دریں اثنا حکومکت سے علیحدگی کے اعلان کے باوجود سندھ اسمبلی میں متحدہ کے ارکان حکومتی بنچوں پر بیٹھے رہے اور اپوزیشن کے شور شرابے میں اس کا ساتھ نہیں دیا۔