کراچی میں جماعت اسلامی کی اے پی سی، رہنماو¿ں نے ووٹرز کی تصدیق کا عمل مسترد کر دیا

 کراچی (آن لائن) سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنماﺅں نے ووٹرز کے تصدیق کے عمل کو مستردکرتے ہوئے اسے دھاندلی پرمبنی قرار دیا ہے اورکہا ہے کہ ملک کا مستقبل شفاف انتخابات کے انعقاد سے وابستہ ہے اگر انتخابات شفاف نہیں ہوئے تو ملک کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا۔ تمام تر احتجاج اور تحفظات کے باوجود انتخابی فہرستوں کی تصدیق کے عمل میں فوج کو شامل نہ کر کے چیف الیکشن کمشنر نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ صوبائی الیکشن کمشنر متحدہ کے ہاتھوں یرغمال بن چکا ہے ‘ انجینئرڈ انتخابات کےلئے انجینئرڈ فہرستیں تیار کی گئی ہیں جو کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ ان خیالات کا اظہار رہنماﺅں نے جماعت اسلامی کراچی کے تحت ادارہ نورحق میں ” انجینئرڈ انتخابات کی تیاری“ کے زیر عنوان منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ آل پارٹیز کانفرنس کی صدارت جماعت اسلامی کراچی کے امیر محمد حسین محنتی نے کی ۔ کانفرنس سے مسلم لیگ(ن) کے رہنما سلیم ضیاء‘جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر برجیس احمد‘ جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا محمد غیاث‘ جمعیت علمائے پاکستان کے رہنما ڈاکٹر محمد صدیق راٹھور‘ نیشنل پیپلز پارٹی کے رہنما سید ضیاءعباس‘ عوامی مسلم لیگ کے رہنما محفوظ یار خان‘ عوامی ورکرز پارٹی کے رہنما یوسف مستی خان‘ جمعیت علمائے اسلام (س) کے رہنما مفتی عثمان یار خان‘ موتمر عالم اسلامی کے میر نواز خان مروت ‘ پی ڈی پی کے بشارت مرزا ‘ سنی تحریک کے مطلوب اعوان‘ مسلم لیگ شیر بنگال کے محمد حسین شیخ‘ پختونخواہ عوامی ملی پارٹی کے صابرین خان اور دیگر نے خطاب کیا ۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر راجہ عارف سلطان نے سانحہ کوئٹہ اور پٹیل پاڑہ میں فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے حوالے سے قرارداد پیش کی جب کہ جماعت اسلامی کراچی کے ڈپٹی سیکرٹری مسلم پرویز نے انتخابی فہرستوں کی تصدیق کے عمل میں فوج کی عدم شمولیت کے خلاف ایک قرارداد پیش کی۔ محمد حسین محنتی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کا محور شفاف انتخابات ہیں‘ جب شفاف انتخابات نہ ہوں تو ملک انارکی کی جانب بڑھتا ہے ‘ ہمارے یہاں انتخابی عمل کو یرغمال بنا کر نتائج تبدیل کئے جاتے ہیں ۔ سلیم ضیاءنے کہا اگر انتخابات کرانے ہیں تو شفاف کرائے جائیں اور فہرستیں درست کی جائیں الیکشن فہرستیں درست نہ ہوں تو انتخابات کا انعقاد بے معنی ہے۔ برجیس احمد نے کہا انتخابی عمل آگے بڑھ رہا ہے مگر اصلاحی اقدامات ابھی تک نہیں کئے گئے۔مولانا محمد غیاث نے کہا اگر الیکشن کمیشن نے شفاف انتخابات نہ کرائے تو ملک اور قوم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔