حفیظ شیخ کے نگراں وزیر اعظم بننے سے عالمی مالیاتی اداروں کے منیجرز کا نگراں وزیر اعظم بننے کی روایت کو فروغ ملے گا

حفیظ شیخ کے نگراں وزیر اعظم بننے سے عالمی مالیاتی اداروں کے منیجرز کا نگراں وزیر اعظم بننے کی روایت کو فروغ ملے گا

کراچی(رپورٹ شہزاد چغتائی) سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کو نگراں وزیر اعظم بنایا گیا تو پاکستان میں عالمی مالیاتی اداروں کے منیجرز کو نگراں وزیر اعظم بنانے کی روایت کو دوام مل جائے گا۔1993ءمیں پہلی بار ورلڈ بنک کے معین قریشی کو نگراں وزیرا عظم بنایا گیا تھا اس کے بعد2003ءمیں ورلڈ بنک کے محمد میاں سومرو نگراں وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہے۔ انہوں نے ورلڈ بنک کے شوکت عزیز سے چارج لیا تھا جوکہ ظفر اللہ جمالی کے مستعفی ہونے کے بعد2007ءکے آخر تک وزیر اعظم رہے ۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ورلڈ بنک کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے۔ ورلڈ بنک کی نوکری سے پاکستان کے وزیر خزانہ کا سفر طے کرنے والوں میں پہلا نام ڈاکٹر محبوب الحق اور آخری نام شوکت ترین کا تھا۔ حفیظ شیخ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں اہم عہدوں پر فائز رہے۔ ان کو مشرف کا آدمی کہا جاتا ہے جس کی وہ تردید کرتے ہیں۔ حفیظ شیخ اور شوکت ترین میں قدر مشترک یہ ہے کہ دونوں نے کابینہ سے استعفیٰ دیا ہے۔
حفیظ شیخ