بلوچستان سے لاپتہ نوجوانوں کی تشدد زدہ نعشیں کراچی سے ملنے لگیں

 بلوچستان سے لاپتہ نوجوانوں کی تشدد زدہ نعشیں کراچی سے ملنے لگیں

کراچی (نیٹ نیوز) کراچی سے گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران پانچ بلوچ نوجوانوں کی لاشیں ملی ہیں، جو بلوچستان کے مختلف علاقوں سے لاپتہ قرار دیئے گئے تھے۔ بی بی سی کے مطابق سرجانی کے علاقے میں پیر کو دو نوجوانوں کی لاشیں ناردرن بائی پاس کے سامنے پڑی ہوئی تھیں۔ ایس ایچ او سرجانی اعجاز راجپر نے بتایا کہ مقتولین کی جیبوں میں پرچیاں موجود تھیں جن پر ان کے نام نعمت اللہ اور اختر رند تحریر تھے۔ دونوں نوجوانوں کو گھلا گھونٹ کر ہلاک کیا گیا ہے۔ ان کے لواحقین کو اطلاع کر دی گئی جو بعد میں آکر میتیں اپنے ساتھ لے گئے۔ وائس فار بلوچ مسنگ پرسن کے وائس چیئرمین قدیر ریکی نے بتایا کہ نعمت اللہ اور اختر علی کا تعلق تربت سے تھا۔ نعمت اللہ 22 اکتوبر 2012 کو بوڑھی ماں کی موجودگی میں ایک بس سے حراست میں لیا گیا تھا جس کے کئی چشم دید گواہ ہیں جبکہ چوبیس سالہ اختر علی رند کو 24 اکتوبر 2012 کو اس وقت حراست میں لے لیا گیا تھا جب وہ تربت میں ایک میڈیکل سٹور سے دوائی خرید رہا تھا۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے 30 جنوری کو سرجانی کے علاقے سے ہارون بلوچ اور رزاق پالاری کی تشدد شدہ لاشیں ملی تھیں۔ دونوں نوجوان گوادر کے علاقے پشکان سے لاپتہ ہوئے تھے۔ اس سے پہلے 28 جنوری کو عدنان بلوچ کی ملیر کے علاقے سے لاش ملی تھی، جو مند کے علاقے سے کئی ماہ سے لاپتہ تھا۔ رپورٹ کے مطابق سرجانی ٹاو¿ن کے علاقے سے زیادہ لاشیں کیوں مل رہی ہیں اس بارے میں ایس ایچ او سرجانی اعجاز راجپر کا کہنا تھا کہ یہ علاقہ وسیع اور ویران ہے اس لئے انہیں مارکر یہاں پھینکا جاتا ہے جبکہ قدیر ریکی نے بتایا کہ بلوچستان سے حراست میں لیکر کراچی کے عقوبت خانے میں منتقل کیا جاتا ہے اور جب وہ تشدد میں ہلاک ہو جاتے ہیں تو ان کی لاشیں یہاں ہی پھینک دی جاتی ہیں۔