کراچی: تشدد‘فائرنگ‘ پولس مقابلہ‘4 افراد ہلاک‘سانحہ12 مئی کے ملزم نعیم گڈو کا چالان پیش

کراچی (کرائم رپورٹر+ نوائے وقت رپورٹ)کراچی کے مختلف علاقوں میں تشدد اور فائرنگ کے واقعات میں 3افراد ہلاک‘ پولیس مقابلے میں ڈاکو مارا گیا۔ تفصیلات کے مطابق گلبہار کے علاقے میں لسبیلہ پل کے نیچے سے دو افراد کی ہاتھ پائوں بندھی لاشیں ملیں جنہیں تشدد کے بعد قتل کیا گیا تھا یوسف گوٹھ میں مسلح افراد نے ایک شخص 30سالہ فہیم بلوچ کو فائرنگ کرکے زخمی کردیا اور لیاقت آباد میں مسلح افراد نے ویڈیو شاپ پر فائرنگ کرکے 26سالہ معین الدین کو زخمی کردیابھینس کالونی میں نالے سے نوجوان کی لاش ملی جس کی شناخت 25سالہ آصف کے نام سے ہوئی ۔ رضویہ پولیس کے مطابق لسبیلہ پل کے نیچے سے ملنے والی لاش کی شناخت میر نعیم کے نام سے ہوئی ہے جو جامشورو کارہنے والا تھا۔ فیروز والا کے علاقے میں پولیس کیساتھ مقابلے میں ایک ڈاکو ہلاک ہو گیا۔ سعید آباد میں پولیس نے منشیات کے اڈے پر چھاپہ مارا فائرنگ کے تبادلے میں ایک ملزم ہلاک جبکہ2 فرار ہوگئے۔ ہلاک ملزم سعید نبی کالعدم تنظیموں کیلئے فنڈنگ ، اغواء برائے تاوان، بھتہ خوری سمیت دیگر جرائم میں ملوث تھا۔ ایڈیشنل آئی جی نے پولیس ٹیم کیلئے ایک لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سانحہ 12 مئی میں ملوث ملزم نعیم عرف گڈو کا چالان پیش کر دیا گیا۔ چالان میں کہا گیا ہے کہ نعیم عرف گڈو پر سیاسی جماعت کے 2 کارکنان کے قتل کا الزام ہے۔دوسری جانب انسداد دہشت گردی نے عبید کے ٹو سمیت 10 ملزمان کو 6 مئی تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا گیا۔ سکیورٹی اداروں نے ملزمان کو نائن زیرو پر چھاپے کے دوران غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام پر گرفتار کیا گیا تھا۔ ملزمان میں عبید کے ٹو، فیضان، سجاد، نعمان، حسیب، امتیاز، کاظم، ندیم، عبیداللہ، آصف شامل ہیں۔جوڈیشل مجسٹریٹ ایسٹ کی عدالت نے پیرول پر رہا کامران پانڈا اور ماجد کو اشتہاری قرار دے دیا۔انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم عامر عرف سر پھٹا کو14روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔۔رینجرز کا کراچی یونیورسٹی کا محاصر، داخلی خارجی راستے بند کرکے تلاشی لی گئی۔ 2 طلبہ تنظیموں میں تصادم بھی ہوا۔اے وی سی نے لیاقت آباد کراچی میں چھاپہ مار کر ملزم ذیشان کو گرفتار کرلیا، گرفتار ملزم 10سے زائد اغواء برائے تاوان اور قتل کی وارداتوں میں ملوث ہے۔ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے ولی بابر قتل کیس میں مجرم فیصل موٹا کی اپیل پر کراچی میں مقدمے کی سماعت کی اجازت دیدی۔ درخواست گزار فیصل موٹا نے موقف اختیار کیا کہ میرے خلاف دیگر مقدمات کراچی میں زیر سماعت ہیں۔ لاڑکانہ جا کر اپیل کی پیروی نہیں کر سکتا۔