پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں اہلیہ کا بھرپور تعاون شامل ہے: ڈاکٹر قدیر

پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں اہلیہ کا بھرپور تعاون شامل ہے: ڈاکٹر قدیر

کراچی (صوفیہ یزدانی / فیملی میگزین) پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں میری اہلیہ کا بھر پور تعاون شامل ہے۔ اپنے والد کی طرح میں بھی استاد بننا چاہتا تھا۔ اپنے ملک میں آزاد شہری کی حیثیت سے زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔ ان خیالات کا اظہار نامور عالمی ایٹمی سائنس دان اور پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے والے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے فیملی میگزین سے خصوصی انٹرویو میں کیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نے ابھی اپنی صرف پندرہ فیصد صلاحیتوں کا استعمال کیا ہے۔ میں نے وزیر اعظم نواز شریف کو بغیر تنخواہ اور بغیر عہدے کے ملک کی بھلائی کے لئے کچھ کام کرنے اور مشورے دینے کی پیش کش کی تھی لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔ اپنے بچپن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ میں زیادہ پڑھاکو نہیں تھا، فزکس اور اسلامی تاریخ میرے پسندیدہ مضامین تھے۔ مجھے پتنگ بازی کا بہت شوق تھا۔ ہم اپنے گھر کے قریب مچھلیوں سے بھرے تالاب میں خوب نہاتے اور مچھلیاں پکڑ کر گھر لاتے ہماری بہن ہمیں مچھلیاں تل کر کھلایا کرتی تھیں۔ ہم جنگلات میں املی اور شریفے توڑ کر کھایا کرتے تھے۔ اپنی زندگی کے خوشگوار لمحات کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکڑ اے کیو خان نے کہا کہ شادی، بیٹیوں کی پیدائش، ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ڈگریوں کے حصول، ایٹمی دھماکے اور غوری میزائل فائر کرکے ملک کو دینا زندگی کے خوشگوار ترین لمحات تھے۔ اپنی شادی کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ اہلیہ ہنی سے پہلی ملاقات ہیگ میں ایک سٹور پر ہوئی۔ ہماری شادی کی تقریب پاکستانی سفارتخانے میں ہوئی تھی۔ قرآن پاک میں ساڑھے چودہ سو سال پہلے جن باتوں کا بتایا گیا ہے سائنس انہیں اب مسخر کررہی۔ میں ہر نوجوان کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ قرآن پاک ترجمے کے ساتھ پڑھنے کو روزانہ کے معمولات کا حصہ بنالیں، نماز پابندی سے ادا کریں۔ میںعوام کی محبتوں کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں مگر حکمران مخلص نہیں ہیں۔ میں چھ ماہ کا تھا اس وقت ایک نجومی نے پیشگوئی کی تھی کہ یہ بچہ بڑا ہو کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرے گا اور مشہور ہوکر ملک اور خاندان کا نام روشن کرے گا۔ ایٹمی دھماکہ کرنے کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے سب سے پہلے اپنی بیگم سے مشورہ کیا تو انہوں نے مجھے کہا کہ اگر آپ پاکستان کی بھلائی کے لئے کوئی کام کر سکتے ہیں تو ضرور کریں‘ ہم پاکستان میں ہی رک جاتے ہیں۔ اپنی شاعری کے شوق کے بارے میں آپ نے کہا کہ میں شاعر نہیں لیکن کبھی کبھی شعر کہہ دیتا ہوں، اپنا ہر کالم پڑھ کر مجھے خوشی ہوتی ہے۔ اپنی کامیاب زندگی کے بارے میں ڈاکٹر اے کیو خان نے کہا کہ میں وقت کا بہت پابند ہوں، اس کا بالکل صحیح استعمال کرتا ہوں یہی میری کامیابی کا راز ہے۔
ڈاکٹر قدیر