سندھ ہائیکورٹ نے حراستی مراکز اور زیر تفتیش افراد کی تفصیلات طلب کر لیں

 سندھ ہائیکورٹ نے حراستی مراکز اور زیر تفتیش افراد کی تفصیلات طلب کر لیں

کراچی (سٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے ملک بھر میں قائم حراستی مراکز اور ان میں زیرتفتیش افراد کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ کراچی سے لاپتہ ہونے والے قاری احسان اللہ کی گمشدگی کے حوالے سے دائر ہونے والی درخواست پر محکمہ داخلہ خیبر پی کے اور دیگر مدعا علیہان سے جواب طلب کر لیا ہے۔ درخواست گزار کے وکیل سید عبدالوحید نے موقف اختیار کیا تھا کہ 26ستمبر 2012کو فون کے ذریعے قاری احسان اللہ کو کراچی کے علاقے سمن آباد بلایا گیا، جس کے بعد وہ لاپتہ ہوگیا۔ بیٹے کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو قاری احسان اللہ کے والد نے خط لکھا، جس کو چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے آئینی درخواست میں تبدیل کر دیا اور تمام سکیورٹی اداروں سے جواب طلب کیا تھا۔ عدالت نے 15جولائی تک وفاقی حکومت، سیکرٹری داخلہ خیبر پی کے اور دیگر مدعا علیہان سے جواب طلب کر لیا ہے۔ دو رکنی بنچ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور کیس کی تفتیشی افسر سے جواب طلب کیا تو انہوں نے عدالت کو بتایا کہ کسی بھی حراستی مرکز میں احسان اللہ کے بارے میں معلومات نہیں ملیں جس پر عدالت نے برہمی ظاہر کی۔ سندھ ہائی کورٹ نے ایم کیو ایم کے 9 کارکنوں کے لاپتہ ہونے سے متعلق پولیس اور رینجرز کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیا ہے۔ عدالت نے ڈاکٹر فاروق ستار کی درخواست پر 17جولائی تک وفاق، سندھ حکومت اور دیگر مدعا علیہان سے جواب طلب کر لیا ہے۔ درخواست کی سماعت سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس جنید غفار پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔