سندھ اسمبلی: لاہور واقعہ کیخلاف 2 مذمتی قراردادیں منظور، گلو بٹ کے ذکر پر ہنگامہ

سندھ اسمبلی: لاہور واقعہ کیخلاف 2 مذمتی قراردادیں منظور، گلو بٹ کے ذکر پر ہنگامہ

کراچی (سٹاف رپورٹر + ایجنسیاں) سندھ اسمبلی نے لاہور واقعہ پر پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی مذمتی قراردادیں منظور کرلیں جبکہ مسلم لیگ (ن) نے ایوان سے واک آئوٹ کیا جبکہ بجٹ پر چوتھے روز بھی بحث جاری رہی جبکہ ایوان میں گلو بٹ کے ذکر پر ہنگامہ ہو  گیا اور شور شرابہ ہوا۔ رکن اسمبلی نصرت سحر نے وزیر بلدیات اور اطلاعات شرجیل میمن کو متعدد بار شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ہمارے سندھ کے ’’گلو‘‘ ہیں۔ ان کے ریمارکس پر پیپلز پارٹی کے خواتین و مرد ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے اور شدید احتجاج کیا جس کے باعث ایوان مچھلی منڈی بن گیا۔ جمعرات کو سندھ اسمبلی کا اجلاس سپیکر آغا سراج درانی کی سربراہی میں شروع ہوا۔ پیپلز پارٹی کی شرمیلا فاروقی اور ایم کیو ایم کے خواجہ اظہار الحسن نے سانحہ لاہور پر مذمتی قراردادیں پیش کیں، خواجہ اظہارالحسن نے کہا کہ 25  موبائلوں میں 250  سے زائد اہل کار رکاوٹیں ہٹانے گئے تھے، لاہور میں بے گناہوں کے قتل کے بعد پنجاب حکومت منظرعام پر آئی۔ وزیراعلی پنجاب کو 8  لاشیں گرنے کے بعد واقعے کا علم ہوا۔ نواز شریف بھی پریس کانفرنس کرتے وقت تک ہلاکتوں سے لاعلم تھے۔ اس کے علاوہ سانحہ لاہور کے بعد سعد رفیق نے انتہائی ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا اور نعشوں پر سیاست کرنے کی کوشش کی۔ قرارداد پر وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب نے کہا اگر کوئی میرے خلاف ایف آئی آر کٹوانا چاہتا ہے تو کٹوائے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے بیٹے کے خلاف ایف آئی آر فوراً درج کر لی جاتی ہے لیکن ڈاکٹر طاہر القادری کے بیٹے کی جانب سے ایف آئی آر درج نہیں کی جارہی۔ پوری قوم سانحہ لاہور پر از خود نوٹس لینے کا مطالبہ کررہی ہے لیکن سوموٹو نہیں لیا جارہا۔ مسلم لیگ (ن)کے رکن عرفان اللہ مروت کا کہنا تھا کہ طاہر القادری سے آج لوگوں کو ہمدردی ہے، رحمن ملک کل تک انہیں پوپ کہتے تھے، گولیاں چلانے کا حکم دینے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیئے۔ شہریار مہر نے کہا لاہور میں ہلاکتوں پر استعفے مانگے جارہے ہیں لیکن لال شہباز قلندر کے عرس کے موقع پر ہونے والے 51  ہلاکتوں پر کوئی استعفیٰ نہیں دے رہا۔ بعد ازاں ایوان نے سانحہ لاہور پر مذمتی قرارداد منظور کرلی لیکن اس موقع پر مسلم لیگ (ن)کے عرفان اللہ مروت  ایوان سے واک آئوٹ کرگئے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے  شرجیل  انعام میمن  نے کہا  شاید پنجاب  کا وزیر داخلہ  رانا ثناء اللہ  نہیں بلکہ گلو بٹ  ہے اور پوری  پنجاب حکومت اس  کے سامنے بے بس  ہے۔ طاہر القادری  اور پیپلز پارٹی کا ایجنڈا  علیحدہ علیحدہ ہے اور پیپلز پارٹی ان کی کسی بھی تحریک  کا حصہ نہیں بنے گی۔  ہمیں اس  بات پر افسوس ہے کہ  اعلیٰ عدالتوں  نے سانحہ لاہور پر آج تک کیوں  کر  سوموٹو ایکشن نہیں لیا ہے۔ نصرت سحر نے اپنے خطاب کے دوران شرجیل میمن کو متعدد بار شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا یہ ہمارے سندھ کے ’’گلو‘‘ ہیں اور وہ گلو ہوتے ہوئے ایوان میں ممبران سے غیرقانونی ہائیڈرینٹ کے خاتمے کے مدد طلب کر رہے ہیں۔ نصرت سحر عباسی نے اس موقع پر کہا کہ جان بوجھ کر میرے خطاب میں رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے اور اگر مجھے آج بات نہ کرنے دی گئی تو ہم وزیر اعلیٰ سندھ سمیت کسی بھی وزیر کو ایوان میں بات نہیں کرنے دیں گے۔ سپیکر نے اس موقع پر پیپلز پارٹی کے ارکان کو خاموش کراتے ہوئے نصرت سحر عباسی سے کہا کہ ان کی جانب سے کسی بھی وزیر یا رکن اسمبلی کو براہ راست نام لے کر کوئی لقب دینا پارلیمانی نہیں ہے اور انہیں اس پر معذرت کرنی چاہئے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کے ارکان کی جانب سے مسلسل نصرت سحر پر معافی مانگنے کے لئے دبائو ڈالا جاتا رہا۔ نصرت سحر عباسی نے کہا کہ آج صبح سے ہی اس ایوان میں ’’گلو، گلو‘‘ ہو رہا ہے تو میرے منہ سے ’’گلو‘‘ نکل گیا ہے اور میں اپنے الفاظ واپس لیتی ہوں جس پر ایوان میں شور شرابہ ختم ہو گیا۔ انہوں نے جب دوبارہ اپنا خطاب شروع کیا تو ایک بار پھر انہوں نے حکومتی وزراء پر تنقید کا سلسلہ جاری رکھا اور کہا کہ ایوان کو بتایا جائے کہ ترقیاتی کاموں میں انہیں کون روک رہا ہے۔ بعد ازاں اسپیکر نے اجلاس جمعہ کی صبح تک ملتوی کر دیا۔
سندھ اسمبلی