کراچی : رہنما پیپلز امن کمیٹی ظفر بلوچ ساتھی سمیت جاں بحق

کراچی : رہنما پیپلز امن کمیٹی ظفر بلوچ ساتھی سمیت جاں بحق

کراچی (نوائے وقت رپورٹ+ کرائم رپورٹر+ ایجنسیاں) کراچی کے علاقے لیاری میں بزنجو چوک پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے پیپلز امن کمیٹی کے رہنما ظفر بلوچ ساتھی سمیت جاں بحق اور انکا ڈرائیور شدید زخمی ہوگیا۔ بتایا گیا ہے کہ ظفر بلوچ موٹر سائیکل پر اپنے ساتھی علی محمد کے ساتھ جا رہے تھے کہ دو موٹرسائیکلوں پر سوار 4 افراد نے اندھادھند فائرنگ کردی جس سے ظفر بلوچ اور انکے ساتھی علی محمد جاں بحق ہوگئے۔ ظفر بلوچ کو 12 گولیاں لگیں۔ واقعہ کے بعد لیاری میں کشیدگی پھیل گئی اور کاروباری مراکز بند ہو گئے جبکہ نئی خانہ جنگی چھڑنے کے خدشے پر مکینوں میں خوف و ہراس پایا جا رہا تھا۔ کشیدگی کے پیش نظر لیاری کو جانیوالے راستوں پر رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری متعین کردی گئی جبکہ لیاری کے اطراف میں بھی سکیورٹی سخت کردی گئی۔ پیپلز امن کمیٹی نے آج لیاری میں مکمل ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ ظفر بلوچ کی نعش پوسٹ مارٹم کے بعد ہسپتال سے لیاری لیجائی گئی۔ ادھر وزیراعلیٰ ہائوس کی طرف جانیوالے راستوں کی بھی سکیورٹی سخت کردی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے ظفر بلوچ کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے حملہ آوروں کو فوری گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے بھی ظفر بلوچ کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک سلجھے ہوئے انسان تھے۔ قبل ازیں کراچی کے مختلف علاقوں میں رینجرز اور پولیس کے ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران 43 افراد کو گرفتار کر لیا گیا، فائرنگ کے تبادلے میں مبینہ طالبان رہنما سمیت 4 افراد مارے گئے جبکہ کراچی کے 20 ٹارگٹ کلرز اور بھتہ خوروں کے گروہ کو مری کے مختلف ہوٹلوں سے پکڑ لیا گیا۔ گروہ کا سرغنہ عامر ولد فرید الدین بتایا گیا ہے۔ آپریشن کے بعد ہوٹلوں، فلیٹوں کے مالک گھروں کو تالے لگا کر فرار ہو گئے۔ منگھو پیر کے علاقے سلطان آباد میں رینجرز کے آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں تحریک طالبان محسود گروپ کا رہنما حضرت علی جاں بحق ہوگیا۔ پولیس اور رینجرز نے بلدیہ ٹائون پیر آباد اورنگی ٹائون شرافی گوٹھ اور ملحقہ علاقوں میں ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران 43 جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کر لیا۔ لیاری کے علاقے شاہ بیگ لین میں رینجرز اور گینگ وار کے ملزموں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 3 جرائم پیشہ افراد مارے گئے۔ مرنے والے عمران چوہان، عبدالغفور اور نعمان کا تعلق جبار عرف بھینگو گروپ سے بتایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب سندھ کے وزیر کچی آبادی جاوید ناگوری نے کہا ہے کہ لیاری میں مارے جانیوالے افراد کا گینگ وار سے کوئی تعلق نہ تھا، رینجرز نے انہیں جعلی مقابلے میں ہلاک کیا۔ پوسٹ مارٹم کے بعد رینجرز اہلکاروں کیخلاف قتل کا مقدمہ درج کرایا جائے گا۔ ادھر سعید آباد میں نامعلوم افراد نے اے این پی رہنما عبدالرزاق بونیری کے گھر کے باہر بم نصب کر دیا، بروقت اطلاع ملنے پر پولیس نے اسے ناکارہ بنا دیا۔ علاوہ ازیں مری میں پولیس نے مختلف ہوٹلوں اور گیس ہائوسز پر چھاپے مار کر کراچی کے 20 ٹارگٹ کلرز اور بھتہ خوروں کو گرفتار کر لیا، یہ لوگ کراچی میں آپریشن کے باعث یہاں چھپ کر سیروتفریح کیلئے کئی روز سے مقیم تھے انہیں جلد سندھ پولیس کے حوالے کئے جانے کا امکان ہے۔ علاوہ ازیں کراچی میں نیپا چورنگی کے علاقے میں راشد منہاس روڈ پر ڈاکوئوں نے ڈائریکٹر ایجوکیشن لاڑکانہ رسول بخش کو مزاحمت پر فائرنگ کرکے شدید زخمی کر دیا اور ان کی سرکاری گاڑی چھین کر لے گئے۔ ادھر سائٹ کے علاقے میں موٹر سائیکل سواروں نے 26 سالہ اعجاز خان منظور کالونی میں دکان کے پاس کھڑے عابد کو فائرنگ کر کے قتل کر ڈالا۔