سانحہ کارساز کو 5 سال بیت گئے، دھماکوں کی تفتیش آگے نہ بڑھ سکی

کراچی (اے پی اے + ثناءنیوز) سانحہ کارساز کو پانچ سال بیت گئے، پیپلز پارٹی کی حکومت ہوتے ہوئے بھی محترمہ بےنظیر بھٹو کے قافلے پر ہونے والے دھماکوں کی تفتیش آگے نہ بڑھ سکی۔ مقدمے کے تفتیشی افسر کے قتل کے بعد تفتیش سرد خانے کا شکار ہو گئی۔ 18 اکتوبر 2007ءمحترمہ بےنظیر بھٹو کی وطن واپسی کے موقع پر خوشیاں اس وقت ماتم میں تبدیل ہو گئیں جب کارساز کے مقام پر پہنچنے کے بعد محترمہ بےنظیر بھٹو کے خیرمقدمی قافلے میں یکے بعد دیگرے دو دھماکے ہوئے۔ محترمہ نے ہاتھ سے لکھی ہوئی درخواست بہادر آباد تھانے پہنچائی لیکن پولیس حکام نے اسے لینے سے انکار کر دیا۔ محترمہ جب تک زندہ تھیں وہ ٹربیونل اور مقدمے کے اندراج سے لاتعلقی کا اظہار کرتی رہیں۔ سانحہ کارساز کے شہداءکو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ بارگاہ شہدائے کارساز پہنچے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے جیالوں نے تاریخی قربانی دی، ہم شہداءکو کبھی نہیں بھول سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ سانحہ کارساز کی تحقیقات کے لئے ڈی آئی جی سی آئی ڈی کی سربراہی میں ایک اور تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ علاوہ ازیں پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر نے کہا ہے کہ 18 اکتوبر سانحہ کارساز پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن اور سب سے بدترین سانحہ تھا، اس دن جمہوریت کے دشمنوں نے بےنظیر بھٹو کے کراچی میں عظیم الشان استقبالی قافلے کو نشانہ بنایا تھا۔ جہانگیر بدر نے کہا کہ 18 اکتوبر کا دن دہشت گردوں اور آمریت کے حواریوں کے لئے خوف کی علامت بن چکا ہے۔ ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے کی جدوجہد میں عوام کو منظم، متحد کرنا لازمی ہو چکا۔