سفارشات تسلیم نہ کی گئیں تو یکم اکتوبر کو علامتی ہڑتال کریں گے: صدر چیمبر آف کامرس فیڈریشن

کراچی (کامرس رپورٹر) وفاق ایوان ہائے تجارت و صنعت پاکستان کے صدر زبیر احمد ملک نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو دھمکی دی ہے کہ اگر وفاقی بجٹ پر فیڈریشن کی تجاویز و سفارشات کو 30 ستمبر 2013ءتک منظور اور تسلیم نہ کیا گیا تو یکم اکتوبر کو ایک دن کی ملک گیر علامتی ہڑتال کی جائے گی۔ انہوں نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ٹیکس دہندگان پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ لاد دیا ہے اور ملک، معیشت اور عوام کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار ملک کے پہلے وزیر خزانہ ہیں جنہوں نے عہدہ سنبھالنے کے 3 ماہ بعد کراچی اور فیڈریشن کا رخ کیا نہ تو بجٹ سے قبل اور نہ ہی بعد میں ملک کے سب سے بڑے چیمبر سے مشاورت کی زحمت گوارہ کی گئی۔ وزیر خزانہ کو بجٹ پر تفصیلی تجاویز و سفارش اور ابہام سے تحریری طور پر آگاہ کیا گیا مگر آج تک انہوں نے ان کا کوئی تدارک نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر 30 ستمبر 2013ءتک انہیں تسلیم نہ کیا گیا کہ ابتدا میں یکم اکتوبر 2013ءکو ایک دن کی ملک گیر علامتی ہڑتال کی جائے گی اور اس کے بعد بھی اگر وزیر خزانہ نے تجاویز منظور نہ کی تو غیر معینہ مدت کی ہڑتال پر بھی غور کیا جائے گا۔ اس موقع پر فیڈریشن کے سابق صدر اور برسراقتدار بزنس مین پینل کے سربراہ طارق سعید نے کہا کہ وزیر خزانہ نے حکومت کی آمدنی میں اضافہ کیلئے کوئی انقلابی قدم نہیں اٹھایا اور موجودہ ٹیکس دہندگان پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ ڈال دیا جس سے صنعت و تجارت تباہی سے دوچار ہو گئی ہے جبکہ فیڈریشن کے سابق صدر ایس ایم منیر نے کہا کہ ملک کی موجودہ صورتحال انتہائی گھمبیر ہے۔ شرح سود میں اضافہ‘ بجلی و گیس کی قیمت میں اضافہ نے پیداواری لاگت کو بے تحاشا بڑھا کر صنعت و تجارت کو تباہی سے دوچار کر دیا ہے۔