متحدہ وفاقی اور سندھ حکومتوں سے الگ‘ فیصلہ حتمی ہے کسی صورت تبدیل نہیں ہو گا : فاروق ستار

متحدہ وفاقی اور سندھ حکومتوں سے الگ‘ فیصلہ حتمی ہے کسی صورت تبدیل نہیں ہو گا : فاروق ستار


کراچی + لندن (راشد نور + ثناءنیوز + نوائے وقت نیوز) متحدہ قومی موومنٹ نے چار سال گیارہ ماہ حکومت میں رہنے اور اسمبلیوں کی آئینی مدت مکمل ہونے سے ایک ماہ قبل پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد ختم کرنے اور صوبائی و وفاقی حکومت سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے۔ کراچی میں ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو میں پریس کانفرنس کے دوران ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنونیئر اور رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ علیحدگی کا فیصلہ حتمی ہے جو کسی صورت تبدیل نہیں کیا جائے گا کیونکہ ایم کیو ایم انتخابات کے قریب پیپلز پارٹی سے اتحاد کا مزید بوجھ برداشت نہیں کر سکتی، ایم کیو ایم نے ماضی کی تمام تر تلخیوں کو فراموش کر کے سندھ میں بھائی چارے کی فضا کے فروغ کے لئے 2008ءمیں پیپلز پارٹی سے اتحاد کیا تھا، ایم کیو ایم نے ہر کڑے اور مشکل وقت میں پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا مگر جواب میں پیپلز پارٹی کی جانب سے کسی بھی قسم کا حوصلہ بخش جواب نہیں ملا۔ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم نے سندھ میں بلدیاتی نظام کو جاری رکھنے پر زور دیا لیکن پیپلز پارٹی کی حکومت نے مقامی حکومتوں کے نظام کو ختم کر دیا، دونوں جماعتوں کے درمیان طے پانے والے معاملات کے تحت سندھ میں بلدیاتی نظام کا جو قانون منظور کیا گیا اسے فوری طور پر نافذ العمل ہونا تھا لیکن اس پر کوئی عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ سندھ کے عوام کو بیوروکریسی اور انتظامیہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے وزرا کے کاموں میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی رہیں، صدر زرداری سمیت پیپلز پارٹی کی قیادت کے سامنے اپنی شکایت پیش کرتے رہے لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی، اس صورت حال میں ہم جمہوریت، مفاہمت اور ملک کے استحکام کی خاطر صبر کرتے رہے۔ ایم کیو ایم کے رہنما کا کہنا تھا کہ ایک جانب یہ صورتحال جاری تھی جبکہ دوسری جانب پیپلز پارٹی کی قیادت نے ہمیشہ منفی ردعمل کا اظہار کیا۔ پیپلز پارٹی نے پیپلز امن کمیٹی تشکیل دے کر ایم کیو ایم کے کارکنوں، تاجروں اور دکانداروں کو قتل کرنے کی کھلی چھوٹ دی، شہر میں کھلے عام جبری بھتے اور اغوا برائے تاوان کی کارروائیوں کو شروع کیا گیا، شہر کی دکانوں پر فائرنگ اور دستی بم سے حملے کئے گئے، یہاں تک کہ کراچی کی شیر شاہ کباڑی مارکیٹ میں باقاعدہ شناخت کر کے مارا گیا، جن دکانداروں نے مقدمات درج کرائے انہیں دھمکیاں ملیں، جن کے خلاف مقدمات درج تھے انہیں بھی شخصی ضمانت پر رہا کر دیا گیا اور بعد میں ان مقدمات کو ہی ختم کر دیا گیا، اس ساری صورت حال میں کراچی سے اربوں روپے کی سرمایہ کاری ملک سے باہر چلی گئی۔ ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں ایم کیو ایم نے تمام امور پر غور کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی حکومت سے علیحدگی اور اپوزیشن میں شامل ہونے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کی تاریخ جدو جہد سے بھری پڑی ہے، ہم نے نہ پہلے کبھی ظلم کے آگے سر جھکایا ہے اور نہ ہی مستقبل میں جبر کے آگے جھکیں گے۔ ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ اگر پہلے علیحدہ ہوتے تو پی پی حکومت ختم ہونے کا الزام ایم کیو ایم پر لگتا، حکومت کے پانچ سال پورے کرنے کا فرض نبھا دیا اب مزید نہیں چل سکتے اس لئے متحدہ نے وفاق اور صوبے میں اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر کڑے وقت میں پیپلزپارٹی کا ساتھ دیا لیکن اس کا طرز عمل اچھا نہیں تھا، امید تھی پیپلز پارٹی ماضی کے رویئے کو نہیں دہرائے گی، ہم نے ماضی کی تلخیاں بھلا کر پی پی سے اتحاد کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے امن کمیٹی تشکیل دے کر شہریوں اور متحدہ کے کارکنوں کے قتل کی کھلی چھوٹ دی، پیپلز پارٹی گینگ وار میں ملوث افراد کی سرپرستی کر رہی ہے۔ الطاف حسین نے کہا ہے کہ جمہوریت کے نام پر جبر کی بدترین شکل سامنے لائی جا رہی ہے نہ پہلے کبھی ظلم کے آگے سر جھکایا ہے نہ آئندہ کبھی سر جھکائیں گے۔ رابطہ کمیٹی سے گفتگو میں کراچی کے حالات پر تشویش کا اظہار کیا۔ الطاف حسین نے کہا کہ ہمارے امن اور محبت کے پیغام کو ہماری کمزوری تصور کرنے والے یہ جان لیں کہ کراچی کے عوام اپنے خلاف ہونے والی سازشوں اور نسل کشی پر اپنی حفاظت کے لئے انتہائی اقدامات پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ایم کیو ایم کے وفاقی وزراءنے استعفے رابطہ کمیٹی کو جمع کرا دیے ہیں۔ نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ رابطہ کمیٹی تمام وزراءکے استعفے گورنر سندھ کو بھجوائے گی۔
متحدہ / علیحدگی