پاکستانی حکومت سپلائی بحال کرنے کیلئے نیٹو سے زیادہ بے چین تھی: جنرل (ر) فیض چشتی

کراچی (خصوصی رپورٹ) سابق کور کمانڈر (دسویں کور) و سابق وفاقی وزیر جنرل (ر) فیض علی چشتی نے کہا ہے کہ حکومتوں کی طاقت عوام سے ہوتی ہے‘ اگر حکومت کے پیچھے عوامی طاقت ہو تو اس کا اظہار حکومتی فیصلوں سے ہو گا۔ نیٹو حملوں کے جواب میں پاکستانی حکومت کا سپلائی بند کرنا مثبت بات تھی لیکن حکومت یہ راستہ دوبارہ کھولنے کے لئے نیٹو سے زیادہ بے چین تھی‘ ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق فیض علی چشتی نے مزید کہا کہ پہلے حکومت کہتی رہی کہ ڈرون پاکستان سے نہیں اڑ رہے لیکن حقائق کا علم ہوا کہ ڈرون پاکستان سے اور پاکستان کے کہنے سے ہی اڑتے ہیں تو پھر امریکہ سے ڈرون حملوں کی مذمت کرنا ایک مذاق معلوم ہوتا۔ ہمیں ڈرون حملوں کی اجازت دینے والی حکومت کی بھی مذمت کرنا ہو گی اور اس سے احتساب کا عمل شروع کرنا ہو گا۔ فیض چشتی نے مزید کہا کہ جہاد افغانستان کے وقت جنرل ضیاءالحق نے جو افغان پالیسی بنائی اس میں غلطیاں بھی ہوئیں۔ اس جنگ میں پاکستان نے امریکہ پر حد سے زیادہ انحصار کیا‘ اس وقت روس کو ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد وسطی ایشیائی ریاستوں میں اسلام کے پھیلاو کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ اس خطرے سے بچنے کے لئے روس نے افغانستان پر حملہ کیا اور مارا گیا لیکن اب مغرب کو اسلام سے خطرہ ہے‘ جب وہ اسلام کے خلاف ہوا تو القاعدہ بھی اٹھی اور طالبان بھی‘ انہوں نے کہا کہ مغرب اسلام کے خلاف اپنی مہم ختم کر دے‘ دنیا میں امن ہو جائے گا۔