کراچی میں قتل و غارت جاری، ٹی وی کیمرہ مین سمیت 7ہلاک

کراچی میں قتل و غارت جاری، ٹی وی کیمرہ مین سمیت 7ہلاک

 کراچی(کرائم رپورٹر)کراچی میں پیر کو تشدد اور فائرنگ کے واقعات میں نجی ٹی وی کیمرہ مین اور نوجوان لڑکی سمیت 7 افراد ہلاک اور رینجرز اہلکاروں سمیت 6افراد زخمی ہوگئے جبکہ بھتہ نہ دینے پر دکان پر دستی بم سے حملہ کیا گیا۔ نجی ٹی وی کے کیمرہ مین 30 سالہ ماجد علی اور 23 سالہ کنیز سکینہ کی لاشیں پیر کی صبح ملیر کینٹ کی چیک پوسٹ نمبر6 کے نزدیک بلاول جوکھیو گوٹھ میں ایک مکان سے ملیں۔ دونوں کو تیزد ھار آلے سے گلا کاٹ کر ہلاک کیا گیا۔ پولیس کے مطابق مقتول ساجد علی کے گھر والے بھٹائی آباد میں رہتے تھے جب کہ مقتولہ سکینہ کا تعلق لاڑکانہ سے ہے۔ ابتدائی تفتیش کے دوارن کیمرہ مین ساجد علی نے بلاول جوکھیو گوٹھ میں چند روز قبل ہی مکان کرائے پر لیا تھا اور مقتولہ کنیز سکینہ کے ساتھ وہاں رہ رہا تھا۔ شبہ کیا جاتا ہے کہ دونوں کا قتل کاروکاری کا نتیجہ ہے اور مبینہ طور پر دونوں کے قتل میں لڑکی کے گھر والے ملوث ہیں۔ ادھر ملیر سٹی کے علاقے ملوک ہوٹل کے نزدیک مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک شخص 45 سالہ سومار ولد اسماعیل ہلاک اور اس کا دوست 35 سالہ جمعہ ولد اقبال زخمی ہوگیا۔ اس کے علاوہ کھارادر کے علاقے میں جماعت خانے کے نزدیک نامعلوم افرا دنے ایک 35 سالہ شخص کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا اور فرار ہوگئے جب کہ ماڈل کالونی شیٹ نمبر پانچ میں ستارہ بیکری کے نزدیک موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے25 سالہ خرم علی شاہ کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔دریں اثنا سچل کے علاقے میں موٹرسا ئیکل گشت پر مامور رینجرز کے دو اہلکار محمد اعظم اور نسیم نامعلوم افراد کی فائرنگ سے زخمی ہوگئے۔ پیر آباد کے علاقے بنارس میں مسلح افراد کی فائرنگ سے دو افراد 25 سالہ اختر علی ولد صداقت علی اور 8 سالہ ہارون ولد شاہ دین زخمی ہوگئے جب کہ منظور کالونی میں ایک نوجوان 25 سالہ عاقب ولد محمد رمضان کو فائرنگ کرکے زخمی کردیا گیا۔ علاوہ ازیں کریم آباد میں مینا بازار کے قریب واقع فرنیچر مارکیٹ کے قریب ایک دکان پر دستی بم حملے میں دکان کے شٹر ٹوٹ گئے دکان بند ہونے کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ دستی بم موٹر سائیکل سوار دو ملزمان نے کریم آباد فلائی اوور کے اوپر سے پھینکا اور فرار ہو گئے۔ دھماکے کے وقت نماز تراویح ادا کی جارہی تھی جس کی وجہ سے نمازیوں اور فلیٹوں میں رہنے والے لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ کراچی کے علاقے لیاری کی کچھی برادری کا نقل مکانی کا سلسلہ جاری رہا۔ گزشتہ روز گینگ وار کے حملوں اور فائرنگ سے بچنے کے لئے کچھی برادری کے مزید 65 خاندان بے سروسامانی کے عالم میں بدین کے لیے روانہ ہو گئے۔ لیاری میں امن و مان کی بگڑتی صورت حال نے کچھی برادری کو اس قدر مجبور کر دیا ہے کہ وہ سوائے راشن کے کچھ بھی ساتھ نہیں لے جا سکتے۔ متاثرین نے لیاری میں قیام امن کے لیے فوج کی تعیناتی کا مطالبہ کیا ہے۔