دہشت گردوں اور گستاخانہ خاکے بنانے والوں میں کوئی فرق نہیں: الطاف

دہشت گردوں اور گستاخانہ خاکے بنانے والوں میں کوئی فرق نہیں: الطاف

لندن (نوائے وقت رپورٹ) متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے اللہ اور رسولؐ کا نام لے کر دہشت گردی کرنے والوں اور گستاخانہ خاکے بنانے والوں میں کوئی فرق نہیں‘ مذمت کریں لیکن پہلے اپنے اندر اتحاد پیدا کریں۔ فرانس اور یورپ کے دیگر ملکوں میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر الطاف حسین نے اظہار مذمت کرتے ہوئے کہا ایسے واقعات ہوتے ہیں تو قوم بہت زیادہ جذباتی ہو جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا خاکوں کی 30 ہزار اشاعت پر احتجاج ہوا تو انہوں نے 60 لاکھ چھاپ دیئے۔ انہوں نے سوال کیا او آئی سی کس فریزر کے ڈبے میں بند ہے‘ بھٹو نے اسلامی سربراہی کانفرنس بلائی انہیں قتل کر دیا گیا۔ کتنے اسلامی ملک اسلام کی بنیاد پر شہریت دیتے ہیں۔ توہین آمیز خاکے بنانا گستاخی ہے اور اللہ بہتر بدلہ لینے والا ہے‘ مگر اللہ کہتا ہے اپنے اعمال درست کرو‘ اپنے اندر اتحاد پیدا کرو‘ ہم پرچوں کے خلاف تو جلوس نکالتے ہیں مگر خود کہتے ہیں فوجیوں کو شہید نہ کہو‘ طالبان کو شہید کہو‘ دہشت گردوں اور توہین آمیز خاکے بنانے والوں میں فرق ہی کیا ہے۔ یہ فیصلہ کر لیں یہ پاکستان طالبان‘ القاعدہ اور داعش کا ہے یا اسے اللہ اور اسکے رسولﷺ کی تعلیمات کے مطابق ایک ملک بنانا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک کے جرائد توہین آمیز خاکے شائع کر چکے ہیں۔ تشدد کے واقعات سے توہین آمیز خاکے شائع کرنے والوں پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہمیں چاہئے ٹھوس بات کریں نہ کہ جذباتی ردعمل کا اظہار کریں۔ نائن الیون کا واقعہ ہوا تو پوری دنیا چیخ اٹھی۔ اس وقت امریکی صدر کے منہ سے نکلا تھا کہ یہ ’’کروسیڈ‘‘ ہے۔