تمام جماعتیں طالبان سے مذاکرات میں حکومت کی حوصلہ افزائی کریں، وفاق المدارس العربیہ

کراچی (آئی این پی) وفاق المدارس العربیہ کے مرکزی رہنمائو ںاورملک کے جیدعلماکرام نے شہرقائدمیں قانون نافذکرنیوالے اداروں کے اہلکاروںپرحملوںکی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ حکومت اور طالبان کے مابین مذاکرات کے آغازکے بعدپورے ملک میںدہشت گردی کی نئی لہرحکمرانوںکیلئے لمحہ فکریہ ہے،اعلیٰ حکومتی عہدیدار خود تسلیم کررہے ہیںبلوچستان سمیت ملک بھرمیںحالات کی خرابی میںبھارتی،افغان دیگر غیر ملکی ایجنسیاں ملوث ہیں اوریہی دشمن عناصرحکومت اورطالبان کے مابین مذاکرات کوبھی سبوتاژکرنے کوشش کررہے ہیں اس لئے فریقین ایک دوسرے پراعتمادکی فضاقائم رکھنی ہوگی کیونکہ مذاکرات کے’ کامیابی کارازاورکنجی ‘‘باہمی اعتمادمیں ہے۔ ہفتے کو جامعہ بنوریہ عالمیہ سے جاری مشترکہ بیان میں شیخ الحدیث مفتی محمدنعیم، شیخ الحدیث مولاناعزیزالرحمن،قاری اقبال اللہ، مولاناالطاف الرحمن،مفتی سیف اللہ جمیل،مولاناخواجہ اسلام،مولانا عبد اللہ، مولانا رشید احمد،مولاناغلام رسول، مفتی نادرجان، مولانامسعودبیگ سمیت دیگرعلماکرام نے کہاکہ حکومت اورطالبان کے مابین مذاکرات کے اعلان کیساتھ ہی دہشت گردی کی لہرمیںبھی اضافہ ہوگیاہے، شہرقائدسمیت پورے ملک میںقانون نافذکرنے والے اداروںاورعام عوام کو نشانہ بنایاجارہاہے جوحکومت سمیت طالبان قیادت کیلئے لمحہ فکریہ ہے، حکمرانوںکودوست ودشمن میں تمیرکرناہوگی جبکہ طالبان قیادت کواس نکتے پرغورکرناہوگاکہ طالبان کے نام پرپولیس ورینجرزسمیت بیگناہوں کی خون سے ہولی کون کھیل رہاہے۔ انہوں نے کہاکہ سابقہ اورموجودہ اعلیٰ حکومتی عہدیداربارہا کھلے عام تسلیم کرچکے ہیںکہ بلوچستان سمیت ملک بھرمیںحالات کی خرابی میںبھارتی،افغان دیگر غیر ملکی ایجنسیاں ملوث ہیں توپھران ممالک کیخلاف کارروائی کیوں نہیں کی جارہی، اقوام متحدہ اوردیگرعالمی فورمزپران ممالک کیخلاف آوازاٹھائی جائے اوران سے سفارتی تعلقات یکسرختم کئے جائیں۔انہوں نے کہا مذاکرات کے حوالے سے قائدجمعیت مولانافضل الرحمن کے بیانات اورنامعلوم اندیشے قوم کومایوسی کی طرف دھکیل رہے ہیں، مولانافضل الرحمن کو اگر مذاکرات کی کامیابی کے حوالے سے خدشات ہیں تو وہ اس کے تدارک کیلئے کردار اداکریں۔