زرداری کےخلاف ریفرنس، سیف الرحمن کا کردار اہمیت اختیار کر گیا

کراچی (سالک مجید) سابق صدر زرداری کے خلاف نیب ریفرنسز میں قانونی حلقے سابق سینیٹر سیف الرحمن کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں، دوسری طرف فاروق ایچ نائیک کی سربراہی میں تجربہ کار قانونی ٹیم زرداری کا دفاع کرے گی۔ نوازشریف کے دوسرے دور حکومت اور مشرف دور میں بھی فاروق نائیک اور دیگر تجربہ کار وکلاءاس وقت آصف زرداری کا ان مقدمات میں ملک اور بیرون ملک دفاع کرتے رہے جب خود زرداری قید تھے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت اور زرداری سمیت ان کی لیگل ٹیم شروع دن سے ان تمام کرپشن کیسز کو جھوٹا‘ من گھڑت اور سیاسی انتقامی کارروائی کا نتیجہ قرار دیتی آئی ہے آج بھی پیپلز پارٹی کے قائدین اور لیگل ٹیم کا موقف ہے کہ زرداری کے خلاف ایک بار پھر جھوٹے کیسز کھولے جا رہے ہیں لیکن مقدمات دوبارہ کھولنے والوں کو پھر شرمندگی ہوگی اور معافی مانگنا پڑے گی۔ زرداری کے خلاف زیادہ تر مقدمات سابق صدر فاروق لغاری کے دور میں بنائے گئے تھے بعدازاں نوازشریف کے دوسرے دور میں احتساب کمیشن کے سربراہ سینیٹر سیف الرحمن اور وفاقی وزیر قانون بیرسٹر خالد انور کی نگرانی میں مقدمات بنائے اور چلائے گئے تھے۔ سابق سینیٹر سیف الرحمن کو زرداری دور میں رحمان ملک نے انٹرپول کے ذریعے گرفتار کرکے پاکستان لانے کی کوششیں کیں اور وارنٹ جاری کرانے کا دعویٰ بھی کیا تھا لیکن رحمان ملک کو سیف الرحمن کی گرفتاری میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی تھی اب آصف زرداری کے خلاف نیب ریفرنسز دوبارہ کھلنے کے بعد قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ سیف الرحمن کی اہمیت بڑھ گئی ہے وہ مزید ٹھوس شواہد پیش کرنے کے ساتھ ساتھ نئے انکشافات بھی کرسکتے ہیں۔