قیام امن کیلئے فائنل راﺅنڈ شروع

شہزاد چغتائی
ورلڈ الیون کی آمد اور کرکٹ کے بین الاقوامی مقابلوں کے بعد کراچی کے محفوظ شہر ہونے کا تاثر ابھر کر سامنے آیا تھا ، اسی وجہ سے دفاعی سازوسامان کی کامیاب نمائش نے پاکستان کو بڑے اسلحہ ساز ملکوں کی صف میں کھڑا کردیا۔ شاید یہ بات دشمن کو پسند نہیں آئی اور عروس البلاد ایک بار پھربم دھماکوں‘ فرقہ واریت‘ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کی لپیٹ میں آگیا ۔ امن و امان کی صورتحال کا تشویشناک پہلو یہ ہے کہ فوری طور اس دلدل سے نکلنا مشکل ہوتا جارہا ہے اور اب مخلوط حکومت کی اتحادی جماعتیں بھی اصولوں سے ہٹتی دکھائی دیتی ہیں۔ اے این پی بھی فوجی آپریشن کا مطالبہ کر رہی ہے ۔ ایک امریکی رپورٹ میں کراچی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ کراچی میں فوج مداخلت کرکے آپریشن کرسکتی ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ نے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف پر زور دیا کہ وہ خود پر ایمرجنسی نافذ کریں اور کراچی جاکر کیمپ لگائیں کراچی کے دو بڑے اسٹیک ہولڈرز اے این پی اور متحدہ قومی موومنٹ نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے واک آﺅٹ بھی کیاہے۔ کراچی میں اس بار کیا ہورہا ہے۔ حالیہ واقعات کے پس پردہ محرکات کیا ہیں کسی کو نہیں معلوم ہے۔ سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ فائنل راﺅنڈ شروع ہوگیا بعض حلقے آئندہ ہفتہ کو فیصلہ کن اور اہم قرار دے رہے ہیں۔ وفاقی حکومت کو پیش کی جانے والی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کراچی کے واقعات میں تیسری قوت ملوث ہے اور بیرونی قوتیں قیام امن میں رکاوٹ بنی چلی آرہی ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل رینجرز کہتے ہیں کہ حالات سیاسی کارکن اور مختلف گروپ خراب کررہے ہیں ۔ مسلم لیگ ن سمیت اپوزیشن کی جماعتوں نے حکومت کو ناکام قرار دیا ہے شہری یہ سوال کرتے ہیں کہ موت کے اس رقص کا ذمہ دار کون ہے۔ تین روز میں عام افراد کے ساتھ پولیس رینجرز سیاسی کارکنوں خفیہ اداروں اور ان کے بچوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کی لپیٹ میں صحافی بھی آگئے ہیں۔ کئی صحافی گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے جبکہ صحافی ولی خان بابر کیس کے آخری گواہ کو بھی صفحہ ہستی سے مٹادیا گیا۔ کئی علاقوں میں اینٹی کرافٹ نصب کردی گئی ہیں کیبل بند کردیئے گئے ٹی وی دیکھنے پر پابندی عائد کردی گئی اور ان علاقوں پر طالبان کا مکمل کنٹرول بتایا جاتاہے۔

کراچی میں کیا ہورہا ہے اس پر سب ہی حیران پریشان ہیں۔ وسوسے اور خدشات ختم ہونے کا نام نہیں لیتے‘ سب سے زیادہ تحفظات محرم الحرام کی سیکورٹی کے حوالے سے موجود ہیں یہ خوف بھی دامن گیر ہے کہ محرم کیسے گزرے گا۔ گزشتہ محرم خیریت سے گزرگیا تھا شہری محرم کے ایام میں امن سلامتی کیلئے دعا گو ہیں۔
کراچی میں امن و امان کی خراب صورتحال کے ساتھ کئی سوال بھی منظر عام پر آگئے اور یہ بات دریافت کی جانے لگی کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کیا کررہے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے ہدایت کی کہ پولیس پروٹوکول ڈیوٹی چھوڑ کر شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کرے لیکن ان کے احکامات پر عمل نہیں ہوا۔ کراچی میں پولیس کی تعداد 30ہزار ہے لیکن زیادہ تر پولیس پروٹوکول ڈیوٹی انجام دیتی ہے۔ رینجرز کے اختیارات محدود ہیں وہ صرف گشت اور پہرے کے فرائض انجام دیتی یا ٹارگٹ آپریشن کرتی ہے۔ سپریم کورٹ میں ایڈوکیٹ جنرل نے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ کراچی میں 27لاکھ جرائم پیشہ افراد داخل ہوگئے ہیں جس شہر میں اس قدر کرمنل ہوں وہاں امن کی کیا توقع کی جاسکتی تھی۔ آئی جی سندھ نے کہا کہ پولیس تمام گلیوں کی حفاظت نہیں کرسکتی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ٹارگٹ کلنگ شاہراہوں پر ہورہی ہے۔ ڈبل سواری پر پابندی سے لاکھوں افراد متاثر ہیں اس کے باوجودکراچی خون میں نہاگیا اور ٹارگٹ کلنگ کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ نارتھ ناظم آباد میں سچل رینجرز کی عمارت پر دھماکہ صرف کراچی نہیں بلکہ پورے ملک کو غیر مستحکم کرنے کی بھیانک اور بزدلانہ کارروائی تھی جوکہ ناکامی سے دوچار ہوگئی۔ کراچی میں اس سال دفاعی نمائش بہت زیادہ کامیاب رہی۔ نمائش میں امریکہ‘ برطانیہ سمیت دنیا بھر کے ممالک اور ان کی کمپنیوں نے شرکت کی جو کہ پاکستان کے اسلحہ ساز کارخانوں کے معیار کو دیکھ کر ششدر ہوگئے۔ نمائش میں 174 غیر ملکی کمپنیاں شریک ہوئیں اور 4سو کے لگ بھگ دفاعی امور کے نمائندوں اور مندوبین نے شرکت کی۔گزشتہ سال پاکستان کو ایک ارب ڈالر اسلحہ کی سپلائی کے آرڈر ملے تھے اس سال 4ارب ڈالر کے آرڈر ملے تو پاکستانی دشمن بلبلا اٹھے۔ کراچی میں جب بھی دفاعی نمائش ہوتی ہے دشمن کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے ۔دفاعی نمائش پر یوں تو سیکورٹی کے فول پروف انتظامات کئے جاتے ہیں لیکن دشمن حفاظتی حصار کو توڑنے میں کئی بار کامیاب ہوجاتا ہے اور کسی نہ کسی صورت میں پیغام دینے کی کوششیں ضرور کرتا ہے۔ اس نوعیت کا سب سے پہلا پیغام نوائے وقت کے دفاتر پر خودکش حملہ کرکے دیا گیا تھا جوکہ دفاعی نمائش کے فوراً بعد ہوا ، اس قسم کے دھماکوں کا مقصد ایک جانب پاکستان کو عسکری کامیابیوں اور اسلحہ میں خودکفالت کی پیشرفت پر غصہ کا اظہار بھی تھا۔ حال ہی میں کراچی کے محفوظ شہر ہونے کا تاثر ابھر کر سامنے آگیاتھا۔ جس کو زائل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ حالیہ دنوں میں نارتھ ناظم آباد میں یہ دوسرا دھماکہ تھا۔ اس سے قبل حیدری کے بم دھماکے میں بوہری کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ سچل رینجرز پر حملے سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں سیکورٹی کے ادارے اور عام شہری بدستور دہشت گردوں کے ہدف پر ہیں، اور اس لعنت کا پوری قوم نے مل جل کر مقابلہ کرنا ہے۔