سانحہ کراچی: 44 شہدا سپرد خاک‘ ملک بھر میں سوگ‘ مزید 2 زخمی دم توڑ گئے

سانحہ کراچی: 44 شہدا سپرد خاک‘ ملک بھر میں سوگ‘ مزید 2 زخمی دم توڑ گئے

کراچی/ لاہور (کرائم رپورٹر/ اپنے نامہ نگار سے/ایجنسیاں/ نوائے وقت نیوز) سانحہ کراچی کے 44 شہداء  کو گذشتہ روز سخی حسن قبرستان میں آہوں اور سسکیوں کیساتھ سپردخاک کر دیا گیا جبکہ سانحہ کے مزید دو زخمی دم توڑ گئے جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔ مرنے والوں کی تعداد 47 ہو گئی۔ اسماعیلی برادری کے 44 شہداء کی نماز جنازہ الاظہر گارڈن میں ادا کی گئی۔ سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ نماز جنازہ میں اسماعیلی برادری کے افراد کے علاوہ سیاسی رہنما بھی شریک ہوئے۔  اسماعیلی برادری کے سکائوٹس نے بھی سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالی ہوئی تھی۔ نماز جنازہ کی ادائیگی سے پہلے آغا خان ہسپتال سے 32 جبکہ ایدھی سرد خانے سے 12 میتوں کو الاظہر گارڈن لایا گیا۔  نماز جنازہ میں جاں بحق افراد کے لواحقین، اسماعیلی برادری کے افراد اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں نے شرکت کی۔ اس موقع پررقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ نماز جنازہ کے بعد جاں بحق افراد کی میتیں ایمبولینسوں میں کراچی کے سخی حسن قبرستان پہنچائی گئیں جہاں آنسوئوں اور سسکیوں کے ساتھ مرنے والوں کو سپردخاک کردیا گیا۔ سانحہ پر ملک بھر میں یوم  سوگ منایا گیا اس موقع پر قومی پرچم سرنگوں رہا۔ کراچی اور حیدر آباد میں کاروباری مراکز بند رہے۔ تعلیمی سرگرمیاں بھی معطل رہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم موجودگی کے باعث دفاتر میں حاضری معمول سے کم رہی۔ شہر کے مختلف علاقوں میں پٹرول پمپ اور سی این جی سٹیشنز بھی بند تھے۔ سندھ حکومت کی جانب سے تعلیمی ادارے کھلے رہنے کے اعلان کے باوجود شہر کے بیشتر تعلیمی ادارے بند رہے۔ جامعہ کراچی میں ہونے والے تمام پرچے ملتوی کردیئے گئے تھے۔ سانحہ صفورا کے باعث سندھ بار کونسل کی اپیل پر وکلاء نے یوم سیاہ منایا۔ سندھ ہائی کورٹ بار، کراچی بار اور دیگر ماتحت عدالتوں میں وکلا پیش نہیںہوئے۔ کراچی کی عدالتوں میں بھی سوگ کی فضا رہی اور وکلا نے عدالتوں کی کارروائیوں کا بائیکاٹ کیا۔ صرف انتہائی اہم کیسز کی سماعت ججز نے اپنے چیمبرز میں کی۔ آل کراچی تاجر اتحاد نے شہر بھر کی مارکیٹوں میں سیاہ پرچم آویزاں کئے اور بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر کاروبار جاری رکھا۔  وکلا نے یوم سیاہ منایا اور عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن میں خصوصی اجلاس منعقد ہوئے جن میں سانحہ کراچی کی شدید مذمت کی گئی اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ دہشت گردی کے سدباب اور عوام کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے خصوصی اقدامات کئے جائیں۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ سے نامہ نگار کے مطابق سانحہ صفورہ کراچی کے سوگ میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ٹوبہ ٹیک سنگھ نے مکمل ہڑتال کی۔ صفورہ چوک بس حملہ میں جاں بحق افراد کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ تیار کرلی گئی۔ پولیس سرجن کے مطابق تین افراد کے سر اور گردن تیز دھار آلے سے وار کے نشانات بھی ملے ہیں۔ 18 ایسے افراد شامل ہیں جن کی موت ایک ایک گولی لگنے سے ہوئی جبکہ دیگر افراد کو دو یا تین گولیاں ماری گئی ہیں۔ پولیس سرجن کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں دو مرد اور ایک خاتون ایسی بھی شامل ہیں جن کے سر اور گردن پر تیز دھار آلے کے نشانات ملے ہیں جبکہ جاں بحق تمام افراد کی عمر بیس سے ستر سال کے درمیان ہے۔دریں اثنا اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا  پرنس کریم آغا خان نے کہا ہے کہ  پرامن جماعت پر حملہ عقل سے عاری تشدد کی عکاسی کرتا ہے، اسماعیلی ایک پرامن عالمگیر برادری ہے جو دنیا بھر میں دوسرے نسلی اور مذہبی گروہوں کے ساتھ پرامن انداز میں رہتے ہیں۔ ایک بیان میں ان کا مزید کہنا ہے کہ بدھ کو کئے جانے والے حملہ کے محرکات سیاسی یا فرقہ وارانہ ہو سکتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسماعیلی برادری کے قائدین اس حملے میں بچ جانے والوں کی مدد میں مصروف ہیں۔ دریں اثنا  ترجمان رینجرز نے کہا ہے کہ کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹارگٹڈ آپریشن میں 145 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ گرفتار افراد میں کالعدم جماعتوں کے دہشت گرد اور ٹارگٹ کلرز شامل ہیں۔ ملزمان سے کلاشنکوف اور دیگر اسلحہ برآمد کیا گیا ہے۔ آپریشن سہراب گوٹھ، گلشن اقبال،ا ورنگی و دیگر علاقوں میں کیا گیا۔ رینجرز نے سندھی ہوٹل کراچی کے قریب ٹارگٹڈ آپریشن کیا گیا ہے جہاں سے ایم کیو ایم کے یونٹ، نائب یونٹ انچارج سمیت 22 افراد کو حراست میں لیا گیا۔  علاوہ ازیں کراچی کے علاقے شیر شاہ میں رینجرز سے مبینہ مقابلے کے نتیجے میں دو ملزمان ہلاک ہو گئے۔ رینجرز ذرائع کے مطابق ہلاک ملزمان سنگین وارداتوں میں ملوث تھے۔ اہلسنت و الجماعت کے مرکزی رہنما اورنگزیب فاروقی کا کہنا ہے گلشن معمار میں ایک مدرسے سے مولانا منظور مینگل سمیت نوے کے قریب طلبہ کو حراست میں لے لیا گیا۔  اس کے علاوہ اہلسنت و الجماعت کے مقتول رہنما ڈاکٹر فیاض کے گھر بھی چھاپہ مارا گیا۔ ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے کہا ہے کہ لیاقت آباد سے ایم کیو ایم کے کسی یونٹ انچارج یا کارکن کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ 11 مئی کو ایم کیو ایم کے چار ذمے داروں اور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ 13 مئی کو لیاقت آباد سے دو کارکن گرفتار کئے گئے۔ آپریشن کے نام پر ایم کیو ایم کے بے گناہ کارکنوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔ بس میں فائرنگ سے 45 افراد کی ہلاکت کے بعد اسلام آباد سے فوجی ماہرین اور ایف آئی اے کے اسپیشل گروپ کی ٹیم بھی تحقیقات کے لئے کراچی پہنچ گئی اور جائے وقوعہ کے معائنہ کے بعد سائنسی بنیادوں پر تفتیش  کا آغاز کر دیا۔ ذرائع کے مطابق تفتیش کے دوران جیو فیسنگ کے ذریعے موبائل فون کالز کا ڈیٹا بھی حاصل کیا گیا ہے اور اس کی مدد سے واقع سے قبل اور بعد میں مذکورہ علاقے سے کی جانے والی موبائل فون کالز کو ٹریس کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ دوسری طرف زخمیوں اور دیگر عینی شاہدین کی مدد سے ملزمان کے تصویری خاکے بھی تیار کرائے جا رہے ہیں۔پولیس نے عینی شاہد کا بیان ریکارڈ کر لیا جبکہ ہتھیاروں کے خول کی فرانزک رپورٹ بھی سامنے آ گئی ہے۔عینی شاہد نے اپنے بیان میں پولیس کو بتایادہشت گرد موٹرسائیکل کیساتھ گاڑی میں بھی سوار تھے۔ پہلے کار سوار دہشتگردوں نے بس روکی اور موٹرسائیکل سوار پیچھے سے آئے۔ پینٹ شرٹ میں ملبوس دہشت گردوں نے پہلے نعرے لگائے اور پھر بس میں داخل ہو گئے۔ بس میں داخل ہوتے ہی دہشتگردوں نے اندھا دھند گولیاں برسانا شروع کر دیں۔ انچارج انسداد دہشت گردی فورس راجہ عمرخطاب نے کہا ہے کہ اب تک تحقیقات سے لگ ہے کہ کراچی کے علاقے صفورا میں بس پر فائرنگ کالعدم جہادی تنظیموں نے کی ہے، فرانزک رپورٹ ملنے پر دیگر واقعات سے مماثلت کی تصدیق ہو سکے گی۔  ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام قادر تھیبو کی صدارت میں سانحہ صفورا کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں سانحہ صفورا میں ملوث دہشت گردوں کی گرفتاری میں مدد کرنے والے شخص کے لئے 2 کروڑ روپے انعام کی تجویز دی گئی۔ غلام قادر تھیبو نے کہا کہ شہر میں2 گروہ دہشت گرد ی کر رہے ہیں، ایک پولیس کو اور دوسرا کمیونیٹیز کو نشانہ بنا رہا ہے۔سانحہ صفورا گوٹھ کی تحقیقاتی ٹیم کو اہم عینی شاہد مل گیا جس نے بیان میں کہا ہے کہ چار موٹرسائیکلوں پر پورا 8 ملزموں نے بس پر حملہ کیا۔ تحقیقاتی ٹیم نے عینی شاہد کے ہمراہ فائرنگ کی جگہ کا معائنہ کیا۔ عینی شاہد کی مدد سے دہشت گردوں کے خاکے بنانے میں مدد ملے گی۔ ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے سائلنسر لگے پستول استعمال کئے اور واردات سے قبل اپنے حلئے تبدیل کئے۔ دریں اثناء سمندری راستوں کی نگرانی بڑھانے کا فیصلہ کال ٹریس ہونے کے بعد کیا گیا۔ کالا پانی کے علاوہ کیماڑی، ابراہیم حیدری، ٹھٹھہ اور گوادار کی سمندری پٹی کی بھی سخت نگرانی کی جارہی ہے جبکہ سمندر میں جانے کے لئے فش ہاربر والا راستہ کھلا رکھا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سیکورٹی اداروں نے ماہی گیروں کے کوائف بھی حاصل کرنے شروع کردیئے ہیں۔ رجسٹرڈ ماہی گیروں کے علاوہ کوئی ماہی گیر سمندر میں نہیں جاسکے گا۔