سیلز ٹیکس کی شرح میں کمی کی جائے: فاروق ستار

سیلز ٹیکس کی شرح میں کمی کی جائے: فاروق ستار

کراچی(خصوصی رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ نے وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کئے جانے والے بجٹ میں سیلز ٹیکس میں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سیلز ٹیکس کی شرح میں کمی کی جائے۔ یہ مطالبہ جمعہ کی رات ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کی جانب سے قومی اسمبلی کے رکن اور متحدہ قومی موومنٹ کے قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر ڈاکٹرفاروق ستار نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں کیا۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ بجٹ سے عوام کی مشکلات کم نہیں ہوئیں اس میںاضافہ ہوا ہے۔98 فیصد متوسط طبقے پر ٹیکس کا بوجھ ڈال دیا گیا۔ سیلز ٹیکس جیسے بہیمانہ ٹیکس عوام اور معیشت پر بوجھ ہیں۔ اس بجٹ سے ملک میں کوئی تبدیلی عمل میں نہیں آرہی۔ بجٹ سے معیشت غیر مستحکم ہوگی۔ فلیٹوں اور اپارٹمنٹس پر ٹیکس سے متوسط طبقہ براہ راست متاثر ہوگا۔ مختلف شکل میں ود ہولڈنگ ٹیکس سے تاجروں کو بھی نہیں بخشا گیا۔30 لاکھ افراد جو ٹیکس نہیں دیتے انہیں بھی ٹیکس نیٹ میں نہیں لایا گیا۔ پوری قوم اس وقت شدید غصے کی کیفیت میں ہے عوام حکومت سے مہنگائی میں کمی کی توقع کررہی تھی۔ بجٹ میں ہم دیکھیں تو دنیا میں پہلی بار تعلیمی حصول پر ٹیکس لگایا گیا جبکہ جاگیر داروں اور وڈیروں پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ ملک کی لوٹی ہوئی دولت بھی واپس لانے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے کہ دہشت گردی سے نبرد آزما ہونے کے لئے بجٹ میں رقم مختص کی جائے نیز انہوں نے حکومت سے دواﺅں کی قیمتوں میں کمی کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سرکلر ڈیٹ ختم کرنے کے لئے 500 ارب روپے کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔ بجٹ میں ٹیکس چوروں کی سرپرستی کی جارہی ہے۔ حکومت سے زرعی انکم ٹیکس لگانے کا بھی مطالبہ کیا۔