عرب معززین کو شکار کی اجازت کا سلسلہ ختم ہونا چاہئے: سندھ اسمبلی میں مطالبہ

عرب معززین کو شکار کی اجازت کا سلسلہ ختم ہونا چاہئے: سندھ اسمبلی میں مطالبہ

کراچی (وقائع نگار) سندھ اسمبلی میں منگل کو متعدد ارکان نے حکومت پر زور دیا کہ عرب معززین کو شکار کی اجازت دینے کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہئے کیونکہ بعض پرندوں اور جانوروں کی نسلیں ختم ہو رہی ہیں۔ حکومت سندھ کی طرف سے بتایا گیا کہ یہ اجازت نامے وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کیے جاتے ہیں لیکن 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد سندھ میں جلد قانون سازی کی جائے گی، جس کے تحت غیر ملکیوں کو شکار کی اجازت لینے کے لیے صوبے سے رجوع کرنا ہو گا۔ اجلاس میں سندھ حکومت کی طرف سے متحدہ عرب امارات کے وزیر کے بیان کی مذمت بھی کی گئی۔ منگل کو سندھ اسمبلی کا پرائیویٹ ممبرز ڈے تھا۔ وقفہ سوالات محکمہ جنگلی حیات سے متعلق تھا ، جس میں ارکان نے جنگلی حیات کو درپیش خطرات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ اجلاس میں صرف وقفہ سوالات اور تحریک التواء کو نمٹایا گیا۔ اس کے بعد سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید عبداللہ شاہ کی برسی کی وجہ سے اجلاس ملتوی کر دیا گیا ۔ ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ تلور کے شکار کے لیے سال 2012-13 ء میں مختلف عرب معززین کے ذریعہ 518 باز درآمد کیے گئے تھے۔ ان میں سے سعودی سے 33 باز ، قطر سے 222 متحدہ عرب امارات سے 133 ، بحرین سے 120 اور کویت سے 10 عقاب درآمد کیے گئے تھے۔ ناصر حسین شاہ نے بتایا کہ ایک شکاری 100 تلور کا شکار کر سکتا ہے۔ شکاری واپس جانے سے پہلے باز کو آزاد کر دیتا ہے ۔ متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم ) کے پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد نے کہا کہ تلور کی آبادی بہت کم ہوتی جا رہی ہے ۔ اس کی کچھ اقسام ناپید ہو گئی ہیں ۔ عرب باشندوں سے کچھ پیسے لے کر انہیں شکار کے لائسنس دے دیئے جاتے ہیں ۔ سید سردار احمد نے کہا کہ ایک زمانے میں منچھر جھیل میں بہت بڑی تعداد میں مرغابیاں آتی تھیں ۔ جب وہ اڑتی تھیں تو یوں محسوس ہوتا تھا کہ آسمان پر کالے بادل چھا گئے ہیں۔ مسلم لیگ (فنکشنل) کے رکن نند کمار نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے وزیر نے جو بیان دیا ہے ، اس کے بعد ہماری غیرت جاگی ہے یا نہیں ؟ ناصر حسین شاہ نے کہاکہ ہم اس بیان کی مذمت کرتے ہیں ۔ آپ کو بھی مذمت کرنی چاہئے۔ سابق وزیر اعلیٰ لیاقت علی خان جتوئی نے کہا کہ عرب معززین جب شکار پر آتے ہیں تو ہماری حکومت انہیں سکیورٹی فراہم کرتی ہے ۔ ہمارے علاقوں میں تو انہوں نے کوئی ترقیاتی کام نہیں کیے ۔ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ لیاقت جتوئی صاحب نے اپنی وزارت اعلیٰ کے دور میں غیر ملکیوں کو خود ہی شکار کی اجازت دی تھی۔ لیاقت جتوئی نے کہا کہ میں نے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے کسی کو اجازت نہیں دی۔ سپیکر نے اجلاس جمعہ کی صبح 10 بجے تک ملتوی کر دیا۔