جسے پکڑنا تھا چھوٹ گیا‘ جیل جانے والا آزاد ہے‘ سیاسی حلقے

کراچی (سالک مجید) جسے پکڑنا تھا وہ چھوٹ گیا‘ جسے جیل میں ہونا چاہئے تھا وہ آزاد ہے اور جسے پکڑنے کا حکم دیا گیا ہے اس کی طرف سے کھلا چیلنج ہے کہ پکڑ سکتے ہو تو پکڑ لو۔ سیاسی حلقوں میں ڈاکٹر عاصم حسین اور ایان علی سے لے کر عمران خان تک مختلف سیاستدانوں اور مشہور شخصیات کے مقدمات اور عدالتی احکامات پر تبصرے جاری ہیں ڈاکٹر عاصم کو پکڑا گیا‘ دہشت گردوں اور کرپٹ لوگوں کا اسپتال میں علاج کرانے کا الزام لگا‘ کرپشن کا الزام لگا لیکن نہ ثبوت ملا نہ گواہ سامنے آئے اور نتیجہ یہ نکلا کہ ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ ایان علی کو نوٹوں سے بھرے بیگ کے ساتھ پکڑا گیا لیکن وہ جیل میں ہونے کی بجائے ملک سے باہر چلی گئی ہیں اور پکڑنے والا انسپکٹر دنیا سے ہی چلا گیا (قتل کیا جا چکا ہے)۔ عتیقہ اوڈھو کے سامان سے ایئر پورٹ پر شراب کی بوتلیں پکڑی جاتی ہیں‘ سپریم کورٹ سوموٹو ایکشن لیتی ہے لیکن عتیقہ اوڈھو آزاد ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے وارنٹ عدالت جاری کرتی ہے لیکن وہ آزاد ہیں۔ عمران خان کی گرفتاری کا حکم پہلے عدالت نے دیا تھا اب الیکشن کمیشن نے دیا ہے اور ان کا کھلا چیلنج ہے کہ پکڑ سکتے ہو تو پکڑ لو۔