سندھ پولیس کی سپیشل برانچ کو بھی چاقو مار حملہ آورکی تلاش کا ٹاسک دے دیا گیا

کراچی (کرائم رپورٹر)گلستان جوہر اور گلشن اقبال میں خوف کی علامت بن جانے والا پراسرار چاقو مار مار ملزم پولیس کیلئے بھی ایک ڈرائونا خواب بن گیا ہے۔پولیس ملزم کی گرفتاری کیلئے اپنی سی ہر کوشش کے باوجود بھی تاحال ناکام دکھائی دیتی ہے۔ سندھ پولیس کے اعلی حکام نے ملزم کی گرفتاری میں ناکامی کے بعد تھانوں کی سطح پر مخبری کے نیٹ ورک کو ایک بار پھر فعال کرنے کا حکم دیا ہے اور اس سلسلے میں سپیشل برانچ پولیس کو بھی چھری مار ملزم کا خصوصی ٹاسک دے دیا گیا ہے۔ پولیس کی تمام تر سرتوڑ کوششوں کے باوجود ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی ہے۔ گلستان جوہر اور گلشن اقبال میں پولیس کے تقریباً تمام یونٹس کے اہلکار وردی اور سادہ لباس میں24 گھنٹے ڈیوٹیاں کر رہے ہیں تاہم پولیس کو ملزم کے خلاف کوئی ٹھوس اطلاع نہیں مل رہی جس سے اس کی گرفتاری میں مدد مل سکے۔ چھرا مار حملہ آور کی کارروائیاں بند۔ پولیس بدستور تلاشی میں سرگرداں، ساہیوال کے چھرا مار وسیم کے دوست کو تفتیش کے لئے حراست میںلے لیا گلستان جوہر اور گلشن ا قبال میں خواتین پر حملہ کرنے والے پر اسرار چھرا مارنے جمعہ کے بعد سے کوئی کارروائی نہیں کی۔ پولیس اس کی گرفتاری پر انعامی رقم پہلے ہی پانچ لاکھ سے بڑھا کر دس لاکھ کرچکی ہے۔ کورنگی سے ملزم وسیم کے جس دوست کو تفتیش کے لئے حراست میں لیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ کراچی میں خواتین پر حملے شروع ہونے سے دو دن قبل تک اس کا ملزم وسیم سے رابطہ تھا لیکن اس کے بعد سے ملزم وسیم کا موبائل بند ہے دوسری طرف پراسرار حملہ آور کے بارے میںشہریوں کی جانب سے متضاد اطلاعات نے بھی پولیس کو پریشان کر رکھا ہے اور اب پولیس نے فیصلہ کیا ہے کہ غلط اطلاعات دینے والوں کو گرفتار کرکے مقدمات درج کئے جائیں گے۔