نواز شریف جیل گئے نہ نام ای سی ایل میں ڈالا گیا ، ڈاکٹر عاصم

کراچی (اسٹاف رپورٹر)احتساب عدالت نے ڈاکٹر عاصم حسین کے خلاف 462 ارب روپے کرپشن سے متعلق دستاویزات درست انداز میں پیش نہ کرنے پر نیب کے گواہ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سماعت 19 اکتوبر تک ملتوی کردی احتساب عدالت کے روبرو ڈاکٹر عاصم حسین اور دیگر کے خلاف 462 ارب روپے کی کرپشن سے متعلق ریفرنس کی سماعت کی گئی ا س مو قع پر ڈاکٹر عاصم حسین ، اطہر حسین عدالت میں پیش ہوئے۔ نیب کی جانب سے نجی بینک کے گواہ محمد اکرم بھی عدالت میں پیش ہوئے دستاویزات کی درست انداز میں پیش نہ کرنے پر عدالت نے سخت اظہار برہمی کیا عدالت نے ریمارکس دیئے کہ لگتا ہے جان بوجھ کر تاخیری حربے استعمال کئے جارہے ہیں۔ دستاویزات جان بوجھ کر لگتا ہے ٹھیک طرح سے پیش نہیں کیا جارہا ہے۔ ڈ ا کٹر عا صم حسین نے کہا کہ شکر ہے چئیرمین نیب ایک جج لگا یا گیا ہے کوئی بیوروکریٹ نہیں لگا انہوں نے کہا کہ شکر ہے کوئی بد کردار اور شرابی چئیرمین نیب نہیں لگا۔ ا ڈاکٹر عاصم نے کہا کہ ہمارے بزرگوں نے سیکھایا تھا کہ پاکستان ہی سب کچھ ہے۔ تم میری سانس تو بند کرسکتے ہو لیکن لوگوں کی آواز بند نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف تم نے میرے ساتھ جو کچھ کیا وہ سب عیا ں ہیں تمہارا نام ای سی ایل میں نہیں ڈالا گیا اور نہ تم جیل گئے ڈاکٹر عاصم نے مز یز کہا کہ نواز شریف اب پاکستان لوٹنا بند کردو۔ انہوں نے کہا کہ میں بہت سی چیزوں کا گواہ ہوں وقت آنے پر سب کے بارے میں بتاوں گا۔ پاکستان ایسے نہیں چل سکتا اب ایسا نہیں چلے گا۔