بریسٹ کینسر‘ پاکستان میں ہر سال 40 ہزار خواتین لقمہ اجل بن جاتی ہیں: روفینہ سومرو

کراچی( ہیلتھ رپورٹر) بریسٹ کینسر سے متعلق آگاہی کے فروغ کے لئے لیاقت نیشنل اور آغا خان یونیورسٹی اسپتال میںپروگرام منعقد کئے گئے واضح رہے کہ پاکستان میں ہر سال 40000 خواتین چھاتی کے کینسر کے باعث ہلاک ہوجاتی ہیں جب کہ کینسر کی تمام اقسام میں بریسٹ کینسر کم مہلک ہے جس میںصحت یابی کے 80 فیصد مواقع موجود ہیں کینسر اسپیشلسٹ ڈاکٹر روفینہ سومرونے اپنے خطاب میں کہا کہ ابتدائی مراحل میں کینسر کی تشخیص مریض کی جان بچاسکتی ہے۔ پاکستان میں بیرونی ممالک کے برعکس 30 سال سے کم عمر خواتین کینسر میں مبتلا ہورہی ہیں عوام کی تحقیق ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے ہاں ہر سال میں سے ایک عورت بریسٹ کینسر کا شکار ہورہی ہے۔ آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں ’’ میں اس کے ساتھ ہوں ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ پروگرام میںماہرین صحت نے کینسر کی شکار خواتین سے معاشرتی رویوںکو بہتر بنانے کی بات کی۔ ڈاکٹر شائستہ نے کہا کہ ہمارے ہاں روایتی شرم کی بنا پر خواتین بیماری کو چھپاتی ہیں ایک عورت کے اس مرض میں مبتلا ہونے سے پورا خاندان متاثر ہوتا ہے۔ کینسر کے مریضوں کو معاشرے کی بھرپور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ بریسٹ کینسر مہلک نہیں ابتدائی مراحل کی تشخیص سے جان بچائی جاسکتی ہے ۔ اس موقع پر آگاہی واک بھی ہوئی۔