واہگہ کے راستے تجارت بڑھانے کیلئے پالیسیوں پر دوبارہ غور ضروری ہے: بھارتی ہائی کمشنر

واہگہ کے راستے تجارت بڑھانے کیلئے پالیسیوں پر دوبارہ غور ضروری ہے: بھارتی ہائی کمشنر

کراچی ( آن لائن) بھارتی ہائی کمشنر ڈاکٹر ٹی سی اے راگھون نے کہا ہے کہ مونا بائو اور اٹاری کا موجودہ انفراسٹرکچر پاکستان بھارت تجارت کی راہ میں رکاوٹ ہے، واہگہ کے راستے تجارت بڑھانے کیلئے ہمیں اپنی پالیسیز پر دوبارہ غورکرنے کی ضرورت ہے، پاکستان افغانستان کو اپنے نصیب پر چھوڑ دے کیونکہ پاکستان اور افغانستان آزاد ممالک ہیں اس لئے دونوں اپنے تجارتی فیصلے خود کریں۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے کرا چی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) اور کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) میں الگ الگ تقاریب سے خطاب کے دوران کہی۔کراچی چیمبر میں خطاب کے دوران ڈاکٹر ٹی سی اے راگھون نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان رشتے چاہے ایک ہی کیوں نہ ہوں مگر ان میں کبھی کبھی کڑواہٹ آجاتی ہے اگر اسی طرح لڑتے جھگڑتے رہے تو مزید 60 سال نکل جائیں گے۔ دونوں ممالک کیلئے آگے بڑھنے کے سوا کوئی راستہ نہیں اور ترقی کا راستہ باہمی تجارت ہے۔انہوں نے کہا کہ تاجروں کی جانب سے ویزوں کے مسئلے کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی اور اس سلسلے میں کراچی چیمبر کے ساتھ ہفتہ وار وڈیو کانفرنس میں ویزوں کے مسئلوں پر بات چیت کی جائے گی تاہم انہوں نے تجویز دی کہ پاکستانی بزنس مین بھارت کیلئے ملٹی پل ویزے کیلئے درخواستیں دیں، بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کا وژن ہے کہ سائوتھ ایشیا میں پائیدار امن کے ساتھ ساتھ تجارتی راہداری میں اضافہ ہو اوردونوں ممالک کے سیکریٹریز خارجہ کے مابین بات چیت خوش آئند قدم ہے،واہگہ اٹاری بارڈر پر تجارت کی اجازت دی جائے گی جوبہتری کی جانب پہلا قدم ہوگا۔ انکا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے تاجر برابری کی بنیاد پر تجارت کریں، پاکستان اور بھارت میں تجارت بڑھنی چاہیے، پاکستان بھارت تجارتی لین دین مشرقی اور مغربی پنجاب کے علاوہ کھوکھراپار، مونابھاؤ زمینی راستے سے کیے جانے سے فریٹ چارجز میں کمی رونماہوگی ۔