نوازشریف کراچی کے مرحومین کو مکھی کہنے پر معافی مانگیں، میں گورنر سندھ ہوتا تو مستعفی ہو چکا ہوتا: الطاف حسین

نوازشریف کراچی کے مرحومین کو مکھی کہنے پر معافی مانگیں، میں گورنر سندھ ہوتا تو مستعفی ہو چکا ہوتا: الطاف حسین

کراچی (نوائے وقت رپورٹ) ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے مطالبہ کیا ہے کہ میاں صاحب مرحومین کو مکھی کہنے پر قوم سے معافی مانگیں ، وزیراعظم نے کہا مکھی بھی مر جائے تو ہڑتال ہوجاتی ہے، ہم نواز شریف کے خلاف نہیں وہ الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے احتیاط سے کام لیں ، نائن زیرو پر لندن سے بذریعہ وڈیو لنک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جن تاجروں نے ہڑتال کی شکایت کی ان کے نام معلوم کررہا ہوں جن لوگوں نے شکایت کی اللہ انکے بچوں کو اٹھا لے، کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں اگر میں گورنر ہوتا تو استعفیٰ دے چکا ہوتا لیکن گورنر بے چارہ کیا کرے انہیں پتا ہی نہیں کہ ان کا نام ای سی ایل میں ہے یا نہیں، الطاف حسین نے کہا کہ میاں صاحب بھول گئے آپ کو دولہا بنا کر لے جایا گیا تھا ۔ اسلحہ کھلے عام نہیں خریدا جاتا اسلحہ چوری اور ڈکیتی کے پیسوں سے خریدا جاتا ہے، کراچی آنے والے راستوں پر اسلحہ اور منشیات کی چیکنگ کیوں نہیں ہوتی، برطانیہ میں میرے خلاف کیس چل رہا ہے میرے وکلاء کیس لڑ رہے ہیں، فیصلے کا انتظار ہے، معاملہ برطانوی عدالت میں ہے، کوئی مزید بات نہیں کر سکتا۔ وزیراعظم نے مکھی مارنے کی بات کر کے عوام کی دل آزاری کی، کارکنوں کو وصیت کرتا ہوں کہ لفظ مکھی کو نہ بھولا جائے، الطاف حسین نے کہا کہ نواز شریف ، آصف زرداری اور میں مل جاتے ہیں ، اے این پی کو بھی ساتھ ملا لیتے ہیں ، جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی بات کرنیوالوں کو ملکر سزا دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سنا ہے پچھلے الیکشن میں باہر سے کافی پیسہ آیا تھا ۔ دریںاثناء ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے کہا ہے کہ کراچی کے شہریوں کو مکھی قرار دینے کے بیان کی متحدہ قومی موومنٹ مذمت کرتی ہے وزیراعظم کا بیان قتل ہونے والے کارکنوں کے خاندانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ نواز شریف بیان واپس لیں، نائن زیرو پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کے دیگر ارکان کے ہمراہ کہا کہ ہمارے کارکنوں کو مکھی کہا گیا اور کیڑے مکوڑوں سے ملایا جا رہا ہے۔ وزیراعظم اپنے بیان پر نظر ثانی کریں کیونکہ انہوں نے کروڑوں لوگوں کا دل دکھایا اقتدار کے نشے میں حقائق کو سامنے رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ این اے 246 کے ضمنی الیکشن سے قبل ایم کیو ایم کیخلاف پراپیگنڈا کیا گیا تھا، ایم کیو ایم کے مینڈیٹ کو ٹھپوں سے منسوب کیا گیا ایم کیو ایم کا ہی میڈیا ٹرائل کیوں کیا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ تاثر بنایا گیا ہے کہ کراچی میں تمام جرائم کے پیچھے ایم کیو ایم ہے جبکہ رپورٹ میں مختلف سیاسی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں پر الزامات لگائے گئے ، ایم کیو ایم قربانی کی کھالیں نہیں چھینتی، رپورٹ میں کہیں بھی ایم کیو ایم کا ذکر نہیں کیا گیا۔