مکھی بھی مر جائے تو کراچی بند ہو جاتا ہے‘ گورنر سندھ ہڑتالیں ختم کرائیں: نوازشریف

مکھی بھی مر جائے تو کراچی بند ہو جاتا ہے‘ گورنر سندھ ہڑتالیں ختم کرائیں: نوازشریف

کراچی+ کوئٹہ (سٹاف رپورٹر+ بیورو رپورٹ+ نوائے وقت رپورٹ) وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ حکومت ملک کے کسی بھی حصے میں امن و امان کے حوالے سے غافل نہیں، امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لئے ہرممکن اقدامات کر رہی ہے، کراچی میں مکھی بھی مر جائے تو احتجاج شروع ہو جاتا ہے، گورنر سندھ سے کہا ہے کہ ہڑتالیں بند کرائو، کراچی میں ہڑتالیں نہیں ہونی چاہئیں، کراچی میں ہڑتالیں بند ہوں گی تو لوگ خوشحال اور ملک ترقی کرے گا، امن و امان کے لئے سزا لازمی عنصر ہے، ملک کے کسی بھی حصے میں امن و امان کی صورتحال سے غافل نہیں ہوں، سانحہ صفورا میں ملوث تمام ملزموں کو گرفتار کر لیا، امید ہے کہ عدالتیں گرفتار دہشت گردوں کو جلد سزا دینگی۔ یہ سزا برسوں، مہینوں نہیں، ہفتوں میں ملنی چاہئیں، اقتصادی راہداری منصوبے پر دشمنوں کی نظر ہے، اللہ تعالیٰ اسے نظر بد سے بجائے، نئے پلانٹ اور مشینری کی درآمد پر ڈیوٹی کم کرنے کی تجویز اچھی ہے، پلانٹ آپریشنل ہونے کے بعد ٹیکس سسٹم لایا جا سکتا ہے۔ وہ وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت کی ایکسپورٹ ٹرافی ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد، وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، وفاقی وزراء سینیٹر اسحاق ڈار اورخرم دستگیر بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نواز شریف نے بہترین کارکردگی کے حامل تاجروں میں ایوارڈ تقسیم کئے۔ انہوں نے کہاکہ افتخار ملک فیڈریشن کے صدر ہوں یا نہ ہوں وہ ہر تقریب میں سٹیج پر ہوتے ہیں وہ ہر حکومت کے ساتھ ہوتے ہیں۔ 88ء میں وہ جہلم تک مسلم لیگ ن اس کے آگے پی پی پی کے ساتھ تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاستدان کل جماعتی کانفرنس کے ذریعے اتفاق پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، سیاستدانوں نے اب اتفاق رائے سے فیصلے کرنا شروع کر دئیے ہیں اب ہمارے مخالفین سے ملنے کے لئے لوگوں کو کالے شیشے والی گاڑی میں نہیں جانا پڑے گا کیونکہ ہم نے نئی روایت ڈالی ہے۔ وزیر اعظم نوازشریف نے انتہائی خوشگوار موڈ میں کہا کہ ایک دفعہ مشینری اور کارخانے پاکستان میں لگ جانے دیں، ہم ان سے ٹیکس وصول کرلیں گے، لیکن ابھی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی نہ لگا کر ان کو ترغیب دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں میٹرو چلے گی اور لیاری ایکسپریس وے بنے گی، بہت جلد کراچی، حیدرآباد موٹروے پر بھی کام شروع ہو جائے گا، ملتان تا لاہور موٹروے شروع کرنے والے ہیں، سکھر تا ملتان موٹروے پاکستان چین اقتصادی منصوبے کے تحت تعمیر ہو گی، گوادر پورٹ سے بلوچستان کی ترقی کا نیا دور شروع ہوگا۔ پرائیویٹ اور پبلک سیکٹرز کے اشتراک سے ترقی کا عمل تیز کیا جا سکتا ہے، طویل المیعاد سرمایہ کاری کیلئے شرح سود میں نمایاں کمی کریں گے۔ تھر کے مقام پر 660 میگاواٹ کے دو منصوبے مقامی کوئلے سے لگائے جا رہے ہیں، بہت سی پرائیویٹ کمپنیاں تھر میں توانائی کے منصوبے لگانے کی خواہش مند ہیں، ملک میں بجلی کی پیداوار کیلئے تھر کا کوئلہ استعمال ہو گا،2017ء تک بجلی کی قلت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ کراچی میں ہڑتالیں نہ ہوں تو یہاں سرمایہ کاری آئے گی، شہر قائد میں میٹرو چلنے لگے گی۔ جب اقتدار میں آئے تھے تو مشکلات زیادہ تھے، اب مسائل میں کمی آئی ہے، کراچی اور بلوچستان سمیت ملک بھر کی سکیورٹی سے غافل نہیں۔ آئندہ 10سال میں گوادر کو فری پورٹ بنائیں گے جس سے ملک کی تقدیر بدل جائے گی۔ 2017ء تک ملک سے بجلی کی قلت کا خاتمہ کر دیا جائے گا، نہ صرف بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم ہو گی بلکہ بجلی کی قیمتیں بھی کم کر دیں گے۔ حب میں آئل ریفائنری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ دہشت گردی میں پکڑے جانے والے مجرموں کو برسوں یا مہینوں نہیں بلکہ ہفتوں میں سزا دی جانی چاہئیں۔ ملک میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں، ملک کی خوشحالی کے لئے امن لازمی ہے، پاکستان کو خود کفالت کی منزل حاصل کرنے میں وقت لگے گا، کراچی میں جاری آپریشن آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جاری رہے گا۔ گوادر خطے کے ممالک کے درمیان رابطے کا بہترین ذریعہ ہے، گوادر کو وسط ایشیائی ممالک سے ملانے کے لئے گوادر سے کوئٹہ سڑک تعمیر کی جارہی ہے۔ وزیراعظم نوازشریف ایک روزہ دورے پرکراچی پہنچے تو گورنرسندھ ڈاکٹرعشرت العباد اور وزیراعلی سید قائم علی شاہ نے ان کا استقبال کیا جہاں سے انہوں نے حب پہنچ کر آئل ریفائنری کا افتتاح کیا۔ تقریب میں وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار، وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، مسلم لیگ (ن) کے صوبائی وزیرثناء اللہ زہری اور دیگر شریک تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ تیل پیدا کرنے والے ملک بہتر معیشتوں میں شامل ہیں، بلوچستان میں آئل ریفائنری کی تعمیر اہم کارنامہ ہے، تیل اور گیس میں خودکفالت کی منزل حاصل کرنے میں وقت لگے گا ، ملک میں 22 ملین ٹن تیل استعمال ہورہا ہے آئل ریفائنریز پر 750ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی، توانائی کے بحران کے خاتمے کے لئے ملک بھر میں بجلی کے کارخانے لگائے جارہے ہیں جس کے تحت تھر میں650 میگاوواٹ بجلی پیداکرنے کے لئے2کارخانے لگیں گے جس سے انشاء اللہ 2017ء کے آخر تک بجلی کی قلت ختم ہو جائیگی، ملک تیزی سے ترقی کی منزل کی طرف جا رہا ہے، ہماری معاشی ترقی کو عالمی ایجنسیاں بھی تسلیم کررہی ہیں، معاشی ترقی کے لئے امن بے حد ضروری ہے، حکومت بھی قیام امن کے لئے اقدامات کررہی ہے، آپریشن ضرب عضب سے وزیرستان پُرامن علاقہ بن چکاہے آئی ڈی پیرز کے پہلے قافلے کو واپس گھروں کو روانہ کردیا گیا ہے، کراچی میں جاری آپریشن کے باعث کراچی میں امن کی صورتحال پہلے کے مقابلے بہتر ہو رہی ہے،کراچی میں جاری آپریشن آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جاری رہے گا، سانحہ صفورا میں ملوث تمام ملزموں کو گرفتار کرلیا ہے اب امید ہے کہ عدالتیں انہیں کو جلد سزا دینگی۔ رات کے اندھیرے میں حملے کرنے والے کیفرکردار تک ضرور پہنچیں گے، حالات بہتر ہو رہے ہیں، تمام دہشت گرد پکڑے جائیں گے، آئل ریفائنری کے منصوبے سے بلوچستان کی اقتصادی ترقی کیساتھ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہونگے،گوادر خطے کے ممالک کے درمیان رابطے کا بہترین ذریعہ ہے۔ کراچی آپریشن آخری دہشتگرد کے خاتمہ تک جاری رہے گا، بیروزگاری اور غربت سے نجات کیلئے امن کا قیام ضروری ہے، آج امن کے بغیر ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا، سانحہ صفورا کے تمام ملزم پکڑے گئے، امید ہے عدالت جلد سزا دیگی۔ یہ مجرم کسی قسم کی نرمی کے مستحق نہیں، کراچی میں امن وامان کی صور تحال ماضی کے مقابلے میں بہتر ہے، دہشتگردوں کے حملے سے حوصلے پست نہیں ہوئے، بھاگنے والوں کا پیچھا کررہے ہیں، دہشتگردوں کو ہر حال میں کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ آپریشن ضرب عضب سے شمالی وزیرستان پرامن علاقہ بن چکا ہے،نقل مکانی کرنیوالے افراد خوشی سے اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں، گوادر کو خوبصورت فری پورٹ بنا نے کیلئے قانون سازی کی جائے گی، گوادر کو وسط ایشیائی ممالک کیساتھ ملائیں گے، گوادر پورٹ سے بلوچستان دوسرے صوبوں سے زیادہ ترقی کرے گا، نئے سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کیلئے زیادہ رعایتیں ملنی چاہئیں۔ انہوں نے ریفائنری توسیعی منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ بائیکوگروپ پاکستان کی صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ بائیکو کی دوسری ریفائنری پر 750 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی۔ گوادر کو خوبصورت فری پورٹ بنائیں گے، اسے خصوسی درجہ دیں گے، گوادر کو وسط ایشیائی ممالک کیساتھ ملائیں گے۔ بلوچستان میں سڑکیں بناتے ہوئے 16 افراد شہید ہوئے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں امن اور ترقی کے وزیراعظم کے ایجنڈے کو عملی جامہ پہنائیں گے، بائیکو کمپنی کی بلوچستان میں سرمایہ کاری کو خیرمقدم کرتے ہیں۔ وزیراعظم نوازشریف کی قیادت میں بلوچستان میں امن اور سرمایہ کاری آئے گی، حب میں امن و امان پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں، بلوچستان میں امن اور ترقی کے وزیراعظم کے ایجنڈے کو عملی جامہ پہنائیں گے۔
کراچی (سٹاف رپورٹر) وزیراعظم محمد نواز شریف نے کراچی میں ٹارگٹڈآپریشن کے اگلے مرحلے کی منظوری دے دی ہے اور ڈی جی رینجرز کی فہرست میں شامل 20 سے زائد بااثر شخصیات کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا گیاہے۔وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے وزیراعظم کو آصف علی زرداری کا پیغام پہنچایا ہے کہ سندھ میں تصادم کی سیاست سے گریز کررہے ہیں۔ ایسا ماحول نہ بنایا جائے جس سے سیاسی جماعتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں کشیدگی ہو۔ وزیراعلیٰ سندھ نے رینجرز کے پریس ریلیز پر تحفظات کا اظہار کیا کہ جب وزیراعلی ہائوس سے اپیکس کمیٹی کی پریس ریلیز جاری کی جا چکی تھی تو پھر تین دن بعد رینجرز نے پریس ریلیز کیوں جاری کی؟ رینجرز کے پریس ریلیز میں سندھ کی سیاسی جماعتوں کو دہشت گرد بنا کر پیش کیا گیا۔ذرائع کے مطابق کراچی میں بھتہ خوری سے متعلق ڈی جی رینجرز کے بیان پر وزیراعظم نواز شریف بھی حرکت میں آگئے، وزیراعظم نے دورہ کراچی کے موقع پر زیراعلیٰ سندھ کو بھتہ خوروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم نوازشریف نے ہدایت کی کہ سندھ حکومت تمام اداروں سے ملکر دہشتگردی کا نیٹ ورک توڑدے۔ دہشتگردوں کی مالی مدد کرنے والے ذرائع کو ختم کردیا جائے۔