سندھ حکومت کی مقدمات بھجوانے میں لاپرواہی، فوجی عدالتیں کام شروع نہ کرسکیں

سندھ حکومت کی مقدمات بھجوانے میں لاپرواہی، فوجی عدالتیں کام شروع نہ کرسکیں

کراچی (آن لائن) سندھ حکومت دہشت گردوں کے خلاف مقدمات فوجی عدالتوں میں منتقل کرنے کے بارے میں غیر سنجیدگی کا شکار ہے اور حکومت سندھ کے اس رویے کی وجہ سے سندھ میں قائم فوجی عدالتیں تاحال کام شروع نہیں کرسکیں جبکہ افسر معاملے کو طول دینے کے لیے خط و کتابت میں مصروف ہیں۔ ذرائع کے مطابق2 ماہ قبل حکومت سندھ نے 64 مقدمات کی سکروٹنی کرکے کالعدم تحریک طالبان کے دہشت گردوں کے خلاف 3 مقدمات فوجی عدالت منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس وقت کے ہوم سیکرٹری عبدالکبیر قاضی نے اس امر کی تصدیق بھی کی تھی لیکن تاحال عملدرآمد نہیں ہوسکا اور 3 مقدمات میں صرف 2 مقدمات کے پولیس سٹیشنوں کی تفصیلات درج کی گئی ہیں۔ سب سے اہم مقدمے369/13کے بارے میں نہیں بتایا گیاکہ یہ مقدمہ کس پولیس سٹیشن سے تعلق رکھتا ہے حالانکہ اس مقدمے کو انتہائی اہم سمجھتے ہوئے22اپریل 2013 کو ہونیوالے قتل کے اس مقدمے کے ملزموں کے خلاف غیر قانونی اسلحہ اور دھماکا خیز مواد رکھنے کے ضمن میں 2 ذیلی مقدمات بھی درج کیے گئے۔ مقدمہ نمبر 808/10 اور 30/13 کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ مقدمات بالترتیب سچل اور قائد آباد پولیس سٹیشن میں درج کیے گئے تھے۔ ذرائع کے مطابق انسداد دہشت گردی ایکٹ مجریہ 1997 کی دفعہ 23کے تحت انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کوخود مقدمہ دوسری عدالت منتقل کرنے کا اختیار ہے لیکن سندھ حکومت کی وزارت قانون اور پراسیکیوٹر جنرل آفس ہر معاملے میں ہائیکورٹ کو آگے کرنا چاہتا ہے۔