نبیل بلوچ کی جبری گمشدگی ، سندھ ہائیکورٹ کا صوبائی سیکرٹری داخلہ اور ڈی جی رینجرز سندھ کو نوٹس، کل جواب طلب

نبیل بلوچ کی جبری گمشدگی ، سندھ ہائیکورٹ کا صوبائی سیکرٹری داخلہ اور  ڈی جی رینجرز سندھ کو نوٹس، کل جواب طلب

کراچی (بی بی سی اردو) سندھ ہائیکورٹ نے بلوچستان کے سابق رکن اسمبلی اور قائد حزب اختلاف کچکول علی کے نوجوان بیٹے نبیل بلوچ کی مبینہ جبری گمشدگی کے خلاف درخواست پر صوبائی سیکرٹری داخلہ اور ڈائریکٹر جنرل سندھ رینجرز کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔ جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس شوکت میمن پر مشتمل ڈویڑن بینچ نے بدھ کو کو یہ نوٹس نبیل بلوچ کی بہن ماہ پارہ بلوچ کی درخواست پر جاری کئے۔ گزشتہ روز سماعت کے موقعے پر ڈپٹی اٹارنی جنرل اور ایس ایچ او لی مارکیٹ پیش ہوئے، لیکن ہوم سیکرٹری اور ڈی جی رینجرز کی جانب سے کوئی پیروی نہیں ہوئی جس پر عدالت نے فریقین سے کل (جمعہ) جواب طلب کرلیا ہے۔ درخواست گزار ماہ پارہ بلوچ کا موقف ہے انکا بھائی 30 اگست کو لی مارکیٹ سے گھر آ رہا تھا کہ سفید رنگ کی گاڑی میں سوار افراد اس کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔ انہوں نے تمام پولیس تھانوں سے معلوم کیا لیکن ان کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔ ماہ پارہ بلوچ کے مطابق نبیل بلوچ انٹر پاس ہیں اور ان کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں اور نہ وہ کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہیں۔ انہوں نے چاکیواڑہ پولیس تھانے میں اس واقعہ کی ایف آئی آر درج کرانے کیلئے درخواست دی لیکن مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔