ڈرون حملے پاکستان ‘ امریکہ شراکت داری کیلئے چیلنج ہیں: شیری رحمن

کراچی(نوائے وقت نیوز) امریکہ میں پاکستان کی سفیر شیری رحمن نے کہا ہے کہ ڈرون حملے پاکستان، امریکہ شراکت داری کیلئے چیلنج ہیں۔ امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ڈرون حملے عالمی قوانین ،انسانی حقوق اور پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سلالہ واقعہ پر امریکی معافی کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعمیری مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی ۔ سلالہ واقعہ پر معافی کے بعد نیٹو سپلائی کی اجازت دی ، ڈرون حملوں کی نہیں۔ شیری رحمن کا کہنا تھا کہ ڈرون حملے اہداف کے حصول کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان سے شدت پسندی بڑھتی ہے اور پاکستانیوں کی اکثریت بجا طور پر ڈرون حملوں کو جارحیت سمجھتی ہے۔ سلالہ حملے میں فوجیوں کی شہادت پر پاکستانیوں کو دکھ اور رنج تھا۔ پاکستانی قوم کو مزید اس بات پر دکھ تھا کہ حملہ اتحادی نے کیا اور معافی بھی نہیں مانگ رہا۔ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ معافی کا معاملہ دوسرے مسائل کے حل کرنے کیلئے نہیں تھا اور سلالہ حملے پر امریکی معذرت سے ڈرون حملوں پر بات چیت کے مزید دروازے کھلیں ہیں۔ ہمارا موقف ہے کہ امر یکہ ڈرون حملوں کے ذریعے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ پاکستان دہشت گردی کی اس جنگ میں اپنا کردار ادا کررہا ہے اور کرتا رہے گا۔