کراچی میں خونریزی کا بازار پھر گرم دو ڈاکٹروں دو متحدہ کارکنوں سمیت دس ہلاک بم حملے دس زخمی

کراچی میں خونریزی کا بازار پھر گرم دو ڈاکٹروں دو متحدہ کارکنوں سمیت دس ہلاک بم حملے دس زخمی

کراچی (نوائے وقت رپورٹ+ این این آئی) شہر قائد میں ہفتہ کے روز فائرنگ اور پرتشدد واقعات میں 2 ڈاکٹروں سمیت 10 افراد جاں بحق ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق موچکو میں جمعہ گوٹھ سے تین افراد کی نعشیں برآمد ہوئیں۔ پولیس کے مطابق تینوں افراد کو اغوا کے بعد بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا اورگولیاں مار کر قتل کیا گیا۔ مقتولین کی عمریں 30 سے35 سال کے درمیان ہیں اور ان کی شناخت ایم کیو ایم کے کارکن ریحان، جعفر عباس اور نعیم جعفری کے ناموں سے ہوئی تینوں 3 روز سے لاپتہ تھے۔ پولیس نے نعشوں کو ضابطے کی کارروائی کے لئے ہسپتال منتقل کردیا۔ بلدیہ ٹاو¿ن کی 24 مارکیٹ میں فائرنگ کے نتیجہ میں ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔ ترجمان اہل سنت والجماعت کے مطابق جاں بحق ہونے والا شخص عبدالحکیم عرف صدیق مذہبی جماعت اہل سنت الجماعت کا عہدیدار تھا۔ ترجمان کے مطابق عبدالحکیم عرف صدیق پر موٹر سائیکل سوار افراد نے فائرنگ کی۔ ادھر لیاری کے علاقے موسیٰ لین میں دستی بم حملے میں 5 افراد زخمی ہوگئے۔ واقعے کے بعد پولیس اور رینجرز کی نفری بھی جائے حادثہ پر پہنچ گئی اور بم حملے میں زخمی ہونے والے دونوں افراد کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ ادھر لیاری کے ہی علاقے بغدادی میں بھی دستی بم کے حملے میں 5 افراد شدید زخمی ہو گئے۔ بغدادی میں گینگ وار کا ملزم ہریش رینجرز سے مقابلے میں مارا گیا جبکہ اس کا ساتھی خادم بکھری فرار ہو گیا۔ دوسری طرف نارتھ ناظم آباد میں 3 کلو وزنی نصب بم کو ناکارہ بنا دیا گیا۔ بم حسن قلندریہ چوک کے قریب مسجد کے پاس جھاڑیوں میں پڑے بیگ میں موجود تھا جس پر پولیس نے بم ڈسپوزل سکواڈ کو طلب کر لیا۔ بم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق تھیلے میں سیمنٹ بلاک سے بنے بم میں 3 کلو کے قریب دھماکہ خیز مواد اور سٹیل کی کیلیں موجود تھیں جن کو ریموٹ کے ذریعے اڑایا جانا تھا۔ بیگ پر القاعدہ برصغیر شریعت یا شہادت لکھا تھا۔ علاوہ ازیں پاپوش نگر کے 2 کلینکوں میں مسلح افراد نے یکے بعد دیگرے گھس کر فائرنگ کر دی جس سے 2 ڈاکٹر علی اکبر اور یاور حسین جاں بحق ہو گئے جبکہ گلبرگ میں ایک دکان پر فائرنگ سے اس کا مالک دم توڑ گیا جس کی شناخت نہ ہو سکی دوسری کھوکھراپار تھانے میں زیر حراست ایم کیو ایم کا کارکن فراز عالم مبینہ پولیس تشدد سے دم توڑ گیا۔ سندھ حکومت نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے تھانہ کے انویسٹی گیشن انچارج علی عباس کو معطل کرکے اس کی تنزلی کر دی فراز عالم کی موت پر ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ہوا ۔ ملیر سیکٹر کے کارکن فراز عالم کے ماورائے عدالت اور زیر حراست بدترین تشدد سے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے آج سندھ بھر میں پرامن یوم سوگ کا اعلان کر دیا گیا جس کے بعد حیدر آباد اور کراچی میں رات گئے دکانیں اور پٹرول پمپ بند ہونا شروع ہو گئے۔ گڈز ٹرانسپورٹر ایسوسی ایشن اور سندھ تاجر اتحاد نے یوم سوگ کی حمایت کر دی۔ فراز عالم کے قتل کی شدید مذمت کرتے متحدہ کے قائد الطاف حسین نے کہا کہ آپریشن کی آڑ میں متحدہ کو نشانہ اور کارکنوں کا ماورائے عدالت قتل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا ایم کیو ایم اس ظلم پر خاموش نہیں بیٹھے گی کارکنوں کو الزامات پر عدالتوں میں پیش کرنے کی بجائے تشدد کرکے مار دینا سراسر ظلم ہے۔ ایسا کرنیوالے خدا کے عذاب سے ڈریں۔ انہوں نے کہا کہ فراز عالم کے قاتل پولیس افسروں کو گرفتار کرکے سزا دیجائے۔ ادھر پی ایم اے کراچی نے 2 ڈاکٹروں کے قتل کیخلاف آج احتجاج کا اعلان کر دیا۔ ڈی آئی جی ویسٹ طاہر نوید نے ڈاکٹروں کی ٹارگٹ کلنگ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فرائض میں غفلت برتنے پر ایس ایچ او پاپوش نگر کو سرفراز گوندل معطل کر دیا۔ علاوہ ازیں شیعہ علماءکونسل نے اہل تشیع افراد ڈاکٹروں کی ٹارگٹ کلنگ کیخلاف 18 جنوری کو وزیراعلیٰ ہا¶س کے سامنے احتجاج کرنے کا اعلان کر دیا۔
کراچی