کراچی : غیرقانونی اسلحہ رکھنے پر سزا 10 سال کرنے کا فیصلہ

کراچی (اے پی پی+این این آئی) وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کے زیرصدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کراچی میں بدامنی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی روک تھام اور امن و امان کے قیام کیلئے فیصلہ کیا گیا کہ غیر قانونی اسلحہ رکھنے کی سزا 3سال سے 10 سال کردی جائے گی، اس حوالے سے قانون میں ترمیم ہوگی جس کے مطابق یہ دفعہ ناقابل ضمانت تصور ہوگی، متاثرہ علاقوں کے ایس ایچ اوز امن کمیٹیاں تشکیل دیں گے، ایس ایچ اوز اپنے علاقوں میں جرائم پیشہ عناصر، گروہ، لینڈ مافیا سمیت دیگر جرائم میں ملوث افراد کی فہرست تیار کرکے آئی جی سندھ کو فراہم کریں گے، مقامی پولیس سے رابطے میں رہنے کیلئے آئی بی اور آئی ایس آئی کے متعدد افسروں پر مبنی خصوصی سیل قائم کیا جائے گا، سندھ حکومت کے محکمہ داخلہ کو شہر میں قیام امن کیلئے پولیس اور رینجرز کی معاونت کیلئے فرنٹیئر کانسٹیبلری طلب کرنے کا صوابدیدی اختیار دے دیا گیا۔ اجلاس میں محکمہ داخلہ اور نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل کے تحت ایک خصوصی شکایتی مرکز قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا جس پر عوام براہ راست رابطہ کرکے دہشت گرد اور جرائم پیشہ عناصر کی نشاندہی کرسکیں گے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کراچی کے امن کو تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، پولیس اور رینجرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بلا خوف و خطر اور بلا امتیاز کسی سیاسی دباﺅ میں آئے بغیر اپنی ذمہ داریوں کو ادا کریں گے۔ رحمان ملک نے جرائم پیشہ عناصر اور گروہ کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ معصوم شہریوں کو نشانہ بناکر کراچی کو غیر مستحکم کرنے کی سازشوں سے باز آجائیں۔